حیات ناصر ۔ جلد اوّل

by Other Authors

Page 114 of 749

حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 114

99 طریق ہے کہ انہیں بحث کی عادت نہیں۔اس لئے کہا تمہارا یہ خیال ہے اور میرا وہ خیال ہے اور بات ختم کر دی بہر حال جو تاثر وہ دینا چاہتا تھا وہ نہ دے سکا دوسرے تیسرے دن اس نے پھر اعتراض کیا تو میں نے پھر اس کا جواب دیا۔مصر کے بعض طلباء نے مجھے کہا کہ تم اپنے آپ پر کیوں ظلم کر رہے ہو۔یہی پڑھانے والا ہے اور یہی امتحان لینے والا ہے میں نے کہا یہ مجھے فیل نہیں کرے گا۔"۔جیسا کہ آپ کو نصیحت کی گئی تھی آپ نے انگلستان میں قیام کے دوران یورپی اقوام کو بڑے غور سے زیر مطالعہ رکھا۔اور ان کی خوبیوں اور اچھی روایات کو نوٹ کیا۔آپ فرماتے ہیں: میں کئی سال آکسفورڈ میں پڑھتا رہا ہوں اور جو میں نے سمجھا تھا کہ میں کیوں وہاں بھیجا گیا۔مجھے اجازت دی گئی اور حضرت مصلح موعود ن اللہ نے وہاں بھیجا اور خرچ ہوا مجھ پر۔یہ اس لئے نہیں تھا کہ میں ان سے کچھ سیکھوں بلکہ اس لئے تھا کہ میں اس قابل ہو جاؤں کہ ان کو کچھ سیکھا سکوں اپنے وقت پر اور ان کو غور سے زیر مطالعہ رکھوں۔میں نے ان کی زندگی ، ان کی عادتوں کا بڑے غور سے مطالعہ کیا ہے۔کے میدان میں ایک چیز جو نمایاں طور پر میرے دماغ پر اثر انداز ہوئی وہ یہ تھی کہ اس کا اگر کوئی ایک شخص صرف ایک چھپی ہوئی صداقت قوم کے سامنے پیش کرتا ہے تو وہ اس کو سر پر اٹھا لیتے ہیں کیونکہ ساری قوم نے مل کے آگے بڑھنا ہے۔اگر کسی سال کسی قوم کے دس ہزار آدمی (دس کروڑ میں سے ایک نئی چیز اپنی قوم کو دیتے ہیں تو اس قوم کے پاس دس ہزار نئے علوم کا خزانہ جمع ہو گیا۔وہ اس حقیقت کو سمجھتے تھے۔۵۸۴ اسی طرح آپ فرماتے ہیں۔"ایشین ممالک کی یہ بدقسمتی ہے کہ ہمارے ماحول میں ہماری