حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 96
81 | سے دور ہوا۔پس جو یہ خیال کرے کہ وہ خدا تعالیٰ کے جاری کئے ہوئے چشمہ کے علاوہ کسی اور جگہ سے علم حاصل کر سکتا ہے وہ نہایت احمق اور جاہل ہے۔علم سب کا سب قرآن میں ہے۔اور یہ میرا ذاتی مشاہدہ ہے۔میں نے دنیا کا کوئی علم نہیں سیکھا۔میں مدرسہ میں ہمیشہ فیل ہوا۔اور ناکام ہی میں نے مدرسہ چھوڑا۔دوسری تعلیم سوائے قرآن کے کوئی حاصل نہیں کی۔لیکن خدا تعالیٰ نے قرآن کریم کے ذریعہ سے مجھے دنیا کے سب علوم کے اصول سکھا دیئے ہیں۔میں لوگوں کی خود ساختہ اصطلاحات بے شک نہیں جانتا۔لیکن میں ان سب علوم کو جانتا ہوں۔جو انسان کے دماغ کی روشنی دینے اور اعمال انسانی کی اصلاح اور اس کی ترقی کے لئے ضروری ہیں۔آج تک کسی علم والے سے میں مرعوب نہیں ہوا۔اور محض اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہمیشہ اپنے مخاطب پر غالب رہا ہوں۔اس نے میری عقل کو روشنی بخشی۔اور میرے علم کو نور عطا کیا۔اور ایک جاہل انسان کو عالم کہلانے والوں کا معلم بنایا۔فَذَالِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَّشَاءُ وَ هُوَ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ - انگلستان بھیجنے کی وجہ (1) اس تجربہ کے بعد میرا خیال یہ کرنا کہ تم انگلستان علم سیکھنے جاتے ہو۔پرلے درجہ کی ناشکری اور انتہا درجہ کی احسان فراموشی ہوگا۔سب علم قرآن کریم میں ہے۔اس لئے سب سے پہلے میں نے تمہیں قرآن پڑھوایا۔بلکہ حفظ کروایا۔پس پیشتر اس کے کہ تم ہوش سنبھالتے کا سرچشمہ تمہیں دلایا گیا۔اور عرفان کا دریا تمہارے اندر جاری کر دیا گیا۔اب آگے اس سے فائدہ اٹھانا نہ اٹھانا تمہارا کام ہے۔پس اگر تم یہ محسوس کرتے ہو۔کہ جو کچھ تم باہر سیکھتے ہو۔اس سے بڑھ کر تم کو قرآن کریم میں ملتا ہے۔اور اگر تم یہ مشاہدہ کرتے ہو۔کہ باقی سب علم