حیات ناصر ۔ جلد اوّل

by Other Authors

Page 711 of 749

حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 711

661 P ”مذہب کا تعلق دل سے ہے اور دل کو جبر سے یا قوت کے بل پر بدلا نہیں جا سکتا ساری دنیا کے ایٹم بم مل کر بھی ایک دل کو نہیں بدل سکتے۔دل ہمیشہ کسی عقیدہ کے باطنی حسن اور خوبی سے بدلتے ہیں یا محبت و پیار اور بے لوث خدمت سے۔اسلام نہ پہلے تلوار سے پھیلا تھا اور نہ اب تلوار یا فوجی قوت سے پھلے گا۔پہلے بھی اسلام کے حسن نے ولوں کو مسخر کیا تھا اور اب بھی اس کا اپنا حسن نوع انسانی کے دلوں کو مسخر کر کے ان پر فتح حاصل کرے گا اور ہر قوم اور ہر ملک کے لوگ خود بخود اس کی طرف کھینچے چلے آئیں گے آنحضرت لی لی لی اور آپ کے کے خلفاء کو جو جنگیں لڑنا پڑیں وہ سب دفاعی جنگیں تھیں، ان کا اسلام کی اشاعت سے کوئی تعلق نہ تھا۔پہلے قریش مکہ نے ظلم و ستم کا بازار گرم کر کے اور پھر متعدد بار مدینہ پر حملہ آور ہو کر اسلام کو نیست و نابود کرنا چاہا اور پھر اس زمانہ کی دو بڑی طاقتوں قیصر و کسری نے اپنی زبردست جنگی قوت سے اسلام اور مسلمانوں کا نام و نشان مٹانا چاہا لیکن نہ قریش مکہ اور نہ اس زمانہ کی دو بڑی طاقتیں اسلام کو کالعدم کرنے میں کامیاب ہو سکیں۔اور اسلام اپنے باطنی حسن اور بے پناہ کشش کی وجہ سے دنیا میں پھیلتا چلا گیا۔قریش مکہ اور قیصر و کسریٰ نے مسلمانوں پر جو جنگیں مسلط کیں وہ اس بات کو دنیا پر آشکار کرنے کا موجب بنیں کہ دلوں کو جبر کے ذریعہ یا طاقت کے بل پر بدلا نہیں جا سکتا۔ہم پر امن تبلیغ و اشاعت کے ذریعہ اور محبت و پیار اور بے لوث خدمت کے ذریعہ اسلام کو دنیا میں پھیلانے میں کوشاں ہیں اور اس میں رفته رفته کامیابی ہو رہی ہے۔ایک وقت آئے گا کہ تمام نوع انسانی اسلام کے حسن کی گرویدہ ہو کر اس کی طرف کھینچی چلی آئے گی اور دین واحد پر جمع ہو کر امت واحدہ کی شکل اختیار کرلے گی ۷۵