حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 570
519 تھی ان منصوبوں کی جو خدائی تدبیر کے ماتحت غلبہ اسلام کے تعلق میں جاری ہوئے تھے۔چنانچہ جو بنیادی کام اس فنڈ کی آمد کے سرمایہ سے سر انجام دیئے گئے ان کا تعلق زیادہ تر ان کاموں سے ہے جن سے حضرت مصلح موعود کو خاص دلچسپی تھی اور وہ درج ذیل ہیں:۔(i) سوانح فضل عمر جس مقدس وجود کی یاد میں ”فضل عمر فاؤنڈیشن " قائم کی گئی تھی اس کی سوانح پر کسی مستند کتاب کا ہونا ضروری تھا چنانچہ یہ کام فاؤنڈیشن نے اپنے ذمہ لیا اور ایک نگران بورڈ کے مشوروں سے حضرت مرزا طاہر احمد صاحب (جو بعد میں خلافت رابعہ کے منصب جلیلہ سے سرفراز ہوئے) نے لکھنی شروع کی۔اس کا پہلا ہوا حصہ خلافت ثالثہ میں شائع ہوا دوسرے حصے کا مسودہ خلافت ثالثہ میں مکمل ہوا لیکن اشاعت بعد میں ہوئی۔(۲) حضرت مصلح موعود کی تقاریر و خطبات رض حضرت مصلح موعود نے اللہ تعالیٰ کی بشارت ” وہ علوم ظاہری و باطنی سے پر کیا جائے گا" کے مطابق اپنے باون سالہ دور خلافت میں بے شمار علمی جواہر پارے اپنی یادگار چھوڑے ، حضور کی بے شمار تقاریر و خطبات باون سال سے زائد کی اخباروں اور رسالوں میں بکھرے پڑے ہیں ان سب کو اکٹھا کر کے محفوظ رکھنے کا کام اس فاؤنڈیشن کے بنیادی کاموں میں سے ہے۔اس سلسلہ میں خطبات محمود کے نام سے حضرت مصلح موعود کے خطبات اور تقاریر کی تدوین و اشاعت کا کام فاؤنڈیشن کر رہی ہے۔اسی طرح حضرت مصلح موعود کی تصانیف انوار الاسلام" کے نام سے سیٹ کی شکل میں شائع کی جا رہی ہیں۔ย