حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 533
480 کرائیں۔تفاسیر کی طباعت ہو، ہر زبان میں ہو، ہر ملک کے لئے ہو، ہر قوم کے لئے ہو، ہر قبیلے کے لئے ہو۔یہ بڑا عظیم کام ہے یہ بہت وسیع کام ہے، یہ بڑا مشکل کام ہے، یہ وہ کام ہے جس کے کرنے کے لئے مهدی علیہ السلام کو مبعوث کیا گیا ہے یہ کام اللہ تعالیٰ کے منشاء اور توفیق سے جماعت احمدیہ نے کرنا ہے اگر اللہ تعالیٰ نے احمدیوں کے دلوں میں قرآن کریم کی محبت کی گرمی کو قائم رکھا تو انشاء اللہ اگلے پچاس ساٹھ سال میں ہم اپنے کام کا ایک بڑا حصہ مکمل کر چکے ہوں گے ۴۹ اسی خطاب میں مزید فرمایا:۔" آج ایک اہم کام کی ابتدا کی جا رہی ہے اور وہ اپنے ایک جدید اور بہترین قسم کے چھاپہ خانے کی ابتداء ہے جس کی عمارت کا سنگ بنیاد اس وقت رکھا جائے گا۔خدا تعالیٰ نے چاہا تو اس کے فضل اور اسی کی رحمت سے ایک دن ہماری انتہائی خوشی بھی پوری ہو جائے گی۔تاہم مرکز احمدیت میں صرف ایک مطبع سے تو ہمارا کام نہیں چلے گا یہ تو ایک اصل اور جڑ ہے جو اس باغ میں لگائی جا رہی ہے جس کو چھاپہ خانوں کا باغ کہا جا سکتا ہے پھر پاکستان میں دوسری جگہوں پر بھی بڑے بڑے چھاپے خانے بن جائیں گے۔پھر دنیا کے ہر ملک میں ایسے چھاپے خانے ہماری ملکیت اور ہماری نگرانی میں چلنے والے ہوں گے جہاں قرآن کریم اور اس کے ترجمہ اور تفسیر کی طباعت کا کام ہو رہا ہو گا تاکہ ساری دنیا کے ہاتھ میں قرآن عظیم اپنے متن کے اعتبار سے بھی، ترجمہ کے لحاظ سے بھی اور تفسیر کے لحاظ سے بھی پہنچ جائے۔انسانی تدبیر کے راستے میں اس کی ہمت اور اس کے عزم کا امتحان لینے کے لئے بعض روکیں کھڑی کی جاتی ہیں ہمارا جو مطمح نظر ہے اور۔۔۔۔۔۔۔۔۔مقصود ہے وہ ہمیں ہمیشہ سامنے رکھنا چاہئے۔ہم نے پاکستان کے ہر شہری