حیات ناصر ۔ جلد اوّل

by Other Authors

Page 532 of 749

حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 532

479 ایک جامع اور عالمگیر منصوبے کا اعلان کرتے ہوئے فرمایا:۔بعثت مہدی معہود (علیہ السلام) کی ایک ہی غرض ہے اور وہ قرآن کریم کے خزائن کو بنی نوع انسان کے ہاتھوں تک پہنچانا ہے۔اشاعت قرآن کے سلسلہ میں تین مرحلے آتے ہیں۔ایک یہ کہ متن قرآن کریم کو ہر مسلمان کے ہاتھ میں پہنچا دیا جائے۔یہی نہیں بلکہ متن قرآن عظیم کو دنیا کے ہر انسان کے ہاتھوں تک پہنچایا جائے۔۔۔۔یہاں بھی بمشکل دس فی صد مسلمان ایسے ہوں گے جن کے پاس قرآن عظیم کا متن موجود ہو گا۔اس لئے مہدی معہود علیہ السلام پر ایمان لانے والوں کی پہلی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ ایسا انتظام کریں کہ ہر مسلمان کے پاس قرآن عظیم کا متن موجود ہو۔اس کے لئے یہ ضروری ہے کہ متن کے ساتھ طباعت ہو اور قرآن کریم کو تجارتی نقطہ نگاہ سے شائع نہ کیا جائے بلکہ ایک روحانی جذبہ کے ماتحت اس کی اشاعت ہو۔۔۔۔دوسرا مرحلہ یہ ہے کہ قرآن کریم کا ترجمہ ہر قوم اور ہر ملک کی زبان میں کیا جائے تاکہ دنیا کے ہر خطہ کے لوگوں تک قرآن کریم کو اس کے معنی و مفہوم کے ساتھ پہنچایا جا سکے۔دنیا میں اس وقت سینکڑوں زبانیں بولی جاتی ہیں۔اکثر ایسی زبانیں ہیں جن کی طباعت ہوتی ہے۔بعض ایسی زبانیں ہیں جن کی طباعت بھی نہیں ہوتی۔مغربی افریقہ کے دورہ میں ہم نے خود مشاہدہ کیا کہ وہاں ایک زبان بولی تو جاتی ہے لیکن نہیں جاتی۔اس لئے اس زبان میں کتب موجود نہیں۔چونکہ ہم نے ہر زبان میں قرآن کریم کا ترجمہ کرنا ہے اس لئے اس دقت کو دور کرنے کے لئے پہلے ہم ان کے حروف بنائیں گے پھر ان کو الفاظ کی شکل دیں گے اور پھر اس کی طباعت کریں گے یعنی قرآن کریم کا ترجمہ اس زبان میں بھی شائع کریں گے جو اس وقت بولی جاتی ہے مگر لکھی نہیں جاتی۔اس کا ترجمہ سمجھنے لگ جائیں تو ہم ان کو قرآن عظیم کی تفسیر سے روشناس لکھی