حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 517
464 خدمت قرآن حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے قرآن کریم کی صداقت اور اس کی عظمت ثابت کرنے کے لئے دنیا بھر کے مذاہب کو للکارا اور چیلنج دیا کہ وہ اپنی الہامی کتاب کا قرآن کریم سے مقابلہ کریں۔اس مقصد کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بعض انعامی چیلنجوں کا اعلان فرمایا :- حضرت خلیفہ اسیح الثالث رحمہ اللہ تعالٰی نے بھی ساری دنیا میں قرآن کریم کی عظمت ثابت کرنے کے لئے اپنی خلافت کے بالکل آغاز میں اہل یورپ کو انتباہ فرمایا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی عظیم الشان پیشگوئیوں کو بڑی جرات کے ساتھ اہل مغرب کے سامنے پیش کیا اور قرآن کریم کی تعلیمات کو اہل مغرب تک پہنچایا۔" ہم تمام مسلمان یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ مسیح ناصری علیہ السلام خدا کے برگزیدہ نبی تھے اور ان کی والدہ بھی نیکی میں ایک پاک نمونہ تھیں۔قرآن کریم نے ان دونوں کا ذکر عزت سے کیا ہے۔مریم علیہا السلام کو تو قرآن کریم نے پاکیزگی کی مثال کے طور پر پیش کیا ہے اور قرآن کریم میں آپ کا ذکر انجیل کی نسبت زیادہ عزت کے ساتھ کیا گیا ہے لیکن قرآن کریم ان دونوں کو معبود ماننے سے کلیسائی عقیدے کی سختی سے تردید فرماتا ہے۔یہ بات اور عیسائی کلیسیا کا آنحضرت میم کی صداقت سے انکار دو ایسے امور ہیں جو اسلام اور عیسائیت کے بنیادی اور اصولی اختلاف ہیں۔" حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں۔” میں ہر دم اسی فکر میں ہوں کہ ہمارا اور نصاریٰ کا کسی طرح فیصلہ ہو جائے ، میرا دل مردہ پرستی کے فتنہ سے خون ہوتا جاتا ہے اور میری جان عجب تنگی میں ہے۔اس سے بڑھ کر اور کون سا دلی درد کا مقام ہو گا کہ ایک عاجز انسان کو خدا بنا لیا گیا اور ایک مشت خاک کو رب