حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 28
28 اجازت لے کر جاتے تھے اور جن الفاظ سے حضرت اماں جان اجازت دیتی تھیں وہ میرے کانوں میں اب بھی گونج رہے ہیں۔حضرت اماں جان ہمیشہ یہ دعائیہ الفاظ کہہ کر اجازت دیتی تھیں۔جاؤ اللہ حافظ و ناصر۔ہو۔بڑی محبت اور بڑی گہرائی سے حضرت اماں جان یہ دعائیہ فقرہ کہتی تھیں۔۵۔حضرت اماں جان آپ کے کھانے کا خاص خیال کرتی تھیں اور اپنے پاس بٹھا کر کھانا کھلاتی تھیں۔مرزا مظفر احمد صاحب جنہیں انہی دنوں میں خود بھی کچھ عرصہ آپ کے ساتھ حضرت اماں جان کے پاس رہنے کا اتفاق ہوا بیان کرتے ہیں:۔دن کا کھانا حضرت اماں جان کے ساتھ کئی مرتبہ باورچی خانے میں چولے کے پاس بیٹھ کر کھاتے تھے اور کئی مرتبہ حضرت اماں جان خود اپنے ہاتھ سے روٹی پکا کر دیتی تھیں۔رات کا کھانا سردی کے موسم میں حضرت اماں جان کے بڑے دالان میں کھایا جاتا تھا جو ہم سب کے سونے کا کمرہ بھی تھا اور جس میں سے بیت الدعا کو راستہ بھی جاتا تھا۔کھانا فرش پر چنا جاتا تھا یا پھر اس کے لئے ایک چوکی پچھتی تھی جس پر چنا جاتا تھا اور اس کے چاروں طرف کھانے والے بیٹھتے تھے گرمیوں کے موسم میں رات کا کھانا صحن کے بالائی حصہ میں ایک تخت پوش کے اوپر کھایا جاتا تھا۔۔حضرت اماں جان نے جس محبت اور چاہت سے آپ کی پروش کی اس کا آپ کی طبیعت پر اتنا گہرا اثر تھا کہ آپ ساری عمر انہیں ہی اپنی ماں سمجھتے رہے اور اکثر بچپن کے تعلق میں انہی کا ذکر فرماتے اور عملی زندگی میں قدم رکھنے کے بعد بھی روزانہ یا جب بھی کام سے فارغ ہوتے ان کی خدمت میں حاضر ہو جاتے اور یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رہا جب تک حضرت اماں جان زندہ رہیں۔چنانچہ جب آپ کی شادی سیدہ منصورہ بیگم صاحبہ سے ہوئی اور آپ قادیان میں اپنی عملی زندگی کا آغاز فرما چکے تھے۔اس زمانہ کا ذکر کرتے ہوئے حضرت سیدہ مریم صدیقہ صاحبہ فرماتی ہیں۔