حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 444
389 " زیارت نصیب نہیں ہوئی۔پھر ان کے دلوں میں یہ تڑپ پیدا ہوئی کہ آپ کے خلفاء میں سے کوئی خلیفہ ان تک پہنچے۔۔۔اور وہ خَلِيفَةً مِّنْ خلفاء کی زیارت سے اپنی آنکھوں کو ٹھنڈا کریں۔۔۔۔۔۔صدیوں کے و انتظار کے بعد اللہ تعالٰی نے چاہا تو انہیں یہ موقع نصیب ہو گا۔۔۔" چنانچہ مغربی افریقہ میں جماعت احمدیہ کے قیام کے بعد کسی خلیفہ المسیح کا یہ پہلا دورہ تھا حضور نے نائیجیریا ، غانا، آئیوری کوسٹ ، گیمبیا لائبیریا اور سیرالیون کا دورہ فرمایا اور صدیوں سے مظلوم اقوام کو اپنے وجود سے برکت بخشی۔افریقن احمدیوں کے لئے یہ تاریخی دن تھے جب ان کے درمیان خلیفہ المسیح کا بابرکت وجود موجود تھا۔حضور نے نائیجیریا کے اس وقت کے صدر جنرل یعقوبو گوان" اور لائبیریا کے صدر ب مین گیمبیا کے صدر داؤد اجوارا" سے ملاقات کی۔اسی طرح غانا کے صدر اور " سیرالیون کے وزیر اعظم سے بھی ملاقات کی اور آنحضرت مﷺ کی سنت پر عمل کرتے ہوئے ان ملکوں کے سربراہوں کو احمدیت یعنی حقیقی اسلام" کا پیغام پہنچایا۔گیمبیا میں حضور کو یہ القاء ہوا کہ ان پس ماندہ ممالک پر ایک لاکھ پونڈ ان اقوام کی صحت اور تعلیم پر خرچ کیا جائے، چنانچہ حضور نے واپسی پر لندن میں نصرت جہاں آگے بڑھو " پروگرام کا اعلان فرمایا اور اس کے لئے نصرت جہاں ریزرو فنڈ قائم فرمایا۔جماعت نے ۵۳ لاکھ روپے اس فنڈ میں دیئے ، جس سے مغربی افریقہ میں سکول اور کلینک کھول کر ان اقوام کی بے لوث خدمت اور خوش حالی کے سامان پیدا فرمائے اور جو صدیوں سے سے محروم چلے آ رہے تھے ان کو پیار دیا۔ہسپتالوں کے ذریعے غریبوں کے لئے مفت علاج کی سہولتیں بہم پہنچائیں اور سکولوں کے ذریعے ان کے مسلمان بچوں کے لئے تعلیم کا انتظام ہوا۔اس سے قبل مغربی افریقہ میں سارے سکول عیسائی مشنوں کے تھے۔مسلمان بچے انہی کے سکولوں میں پڑھنے پر مجبور تھے ان ملکوں میں محض ان کا عیسائی نام رکھ کر انہیں چپکے سے عیسائی بنا لیا جاتا تھا حضور کے اس منصوبے کے تحت افریقہ میں غلبہ اسلام کی مہم کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کے لئے مضبوط بنیادوں کی ضرورت تھی جو نصرت جہاں منصوبہ" کے ذریعے پوری ہوئی۔حضور نے فرمایا کہ " پیار -