حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 438
383 احمدیہ کی پہلی مسجد کا حضور کی اجازت سے صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب کے ہاتھوں سنگ بنیاد رکھا گیا۔ادھر ربوہ میں حضور نے مسجد اقصیٰ کا سنگ بنیاد رکھا۔چندوں میں وسعت پیدا کرنے کے لئے حضور نے وقف جدید کا دفتر اطفال قائم فرمایا اور ایک دن سے لے کر پندرہ سال تک کی عمر کے بچوں کو بھی وقف جدید کا چندہ دینے کی تحریک فرمائی۔اسی طرح تحریک جدید کے دفتر سوم کا اجراء فرمایا اور حضرت مصلح موعود کی طرف منسوب کرنے کے لئے اسے نومبر ۱۹۶۵ء سے شمار کرنے کا فیصلہ فرمایا۔جماعت کی ذہنی اور روحانی ترقی کے لئے حضور نے تحقیقاتی مقالے پڑھنے کے لئے مجلس ارشاد قائم فرمائی اور انجمن موصیان و موصیات کا قیام فرمایا۔حضور کی خلافت کا ایک خاص پہلو حضور کی فن تعمیر میں ذاتی دلچسپی تھی۔چنانچہ اس کا آغاز حضور کی خلافت کے ساتھ ہی اس طرح بھی شروع ہوا کہ مسجد اقصیٰ ربوہ (پاکستان) مسجد کوپن ہیگن (ڈنمارک) کے علاوہ فضل عمر فاؤنڈیشن کی بلڈنگ اور صدر انجمن احمدیہ کے نئے بلاک کی بنیاد رکھی گئی۔اسی سال جنوبی افریقہ میں کیپ ٹاؤن سے جماعت کے سہ ماہی رسالہ "العصر" کا اجراء ہوا۔معاشرے کی اصلاح کے لئے حضور نے بد رسوم کے خلاف جہاد کا اعلان فرمایا اور پاکستان کے دونوں صوبوں مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان کے درمیان خوشگوار فضا پیدا کرنے اور ملک کے استحکام کے لئے بین الصوبائی قلمی دوستی پیدا کرنے کی تحریک فرمائی۔قرآن کریم سیکھنے سکھانے کے انتظام کے لئے حضور نے ایک نئی نظارت کا اضافہ فرمایا جس کا نام نظارت اصلاح و ارشاد (تعلیم القرآن) رکھا۔نیز قرآن کریم کی اشاعت کے لئے ایک ادارہ طباعت و اشاعت قرآن کریم کے نام سے قائم فرمایا۔ساؤتھ لندن میں اسی سال تعلیم الاسلام سنڈے سکول کا آغاز ہوا۔اس سال تنزانیہ میں ایک مسجد کا اضافہ ہوا جس کا نام "مسجد احسان" رکھا گیا۔اس سال حضور کو الہام ہوا ” اینا دیواں گا کہ توں رج جاویں گا" حضور نے اس کا اعلان کرتے ہوئے ۱۸