حیات ناصر ۔ جلد اوّل

by Other Authors

Page 394 of 749

حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 394

363 سب سامانوں اور اس کی ثروت اور وجاہت پر ہر حال میں مقدم رکھیں گے اور دنیا میں دین کی سربلندی کے لئے مقدور بھر کوشش کرتے رہیں گئے۔اس موقع پر ایک اور عہد کی تجدید بھی کرتے ہیں۔اگرچہ ہم۔عقیدہ رکھتے ہیں کہ یہ بہشتی مقبرہ قادیان کے بہشتی مقبرہ کے ظل کی حیثیت سے ان تمام برکات کا حامل ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس بہشتی مقبرہ کے ساتھ وابستہ کی ہیں لیکن حضرت ام المومنین ال اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وہ اولاد جو پنجتن کہلاتی ہیں اور ان میں سے جو وفات یافتہ یہاں مدفون ہیں اور خاندان کے دوسرے وفات یافتہ افراد بھی جن کا مدفن اس مقبرہ میں ہے ہم ان کے تابوتوں کو مقدر وقت آنے پر قادیان واپس لے جائیں گے اور ان تمام امانتوں کو جانوں سے بھی زیادہ عزیز رکھتے ہوئے اولین وقت میں ان جگہوں پر پہنچا دیں گے جن کی طرف وہ حقیقی طور پر اپنے آپ کو منسوب کرتے تھے اور جہاں انہیں پہنچانا ضروری ہے اور جس کا ہم نے عہد کیا ہوا ہے۔" ہی اس عہد کے بعد پچاس ہزار احباب جماعت کے ساتھ آپ نے حضرت مصلح موعود کی نماز جنازہ پڑھائی چھ تکبیرات کہیں۔اور تدفین ۳ کے بعد لمبی پر سوز دعا کروائی۔هم