حیات ناصر ۔ جلد اوّل

by Other Authors

Page 387 of 749

حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 387

356 قیام کے لئے ضروری ہے اور اپنی رحمت فرماتے ہوئے میرے دل پر آسمانی نور نازل فرمائے اور مجھے وہ کچھ سکھائے جو انسان خود نہیں سیکھ سکتا۔میں بڑا ہی کم علم ہوں ، نا اہل ہوں، مجھ میں کوئی طاقت نہیں کوئی نہیں۔جب میرا نام تجویز کیا گیا تو میں لرز اٹھا اور میں نے دل میں کہا کہ میری کیا حیثیت ہے؟ پھر ساتھ ہی مجھے یہ بھی خیال آیا کہ ہمارے رے امام حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے باوجود اس کے کہ خدا تعالیٰ نے انہیں اپنی بہت سی نعمتوں اور برکتوں سے نوازا تھا فرمایا ہے۔کرم خاکی ہوں مرے پیارے نہ آدم زاد ہوں جب ہمارے پیارے امام نے ان الفاظ میں اپنے خدا کو مخاطب فرمایا ہے اور اس کے حضور اپنے آپ کو کرم خاکی قرار دیا ہے تو میں اس اپنے آپ کو کرم خاکی کہنے والے سے کوئی بھی نسبت نہیں رکھتا لیکن ساتھ ہی مجھے خیال آیا کہ میں بے شک ناچیز ہوں اور ایک بے قیمت مٹی کی حیثیت رکھتا ہوں لیکن اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو وہ مٹی کو بھی نور بخش سکتا ہے اور اس مٹی میں بھی وہ طاقتیں اور قوتیں بھر سکتا ہے جو کسی کے خیال میں بھی نہیں آسکتیں۔وہ اس مٹی میں ایسی چمک دمک پیدا کر سکتا ہے جو سونے اور ہیروں میں نہ ہو۔غرضیکہ میرے پاس ایسے الفاظ نہیں جن سے میں اپنی کمزوریوں کو بیان کر سکوں اس لئے آپ دعاؤں سے میری مدد کریں۔جہاں تک ہو سکے گا میں آپ میں سے ہر ایک کی بھلائی کی کوشش کروں گا۔اختلاف تو ہم بھائیوں میں بھی ہو سکتا ہے لیکن اختلاف کو انشقاق اور تفرقہ اور جماعت میں انتشار کا موجب نہیں بنانا چاہئے۔سید نا حضرت خلیفہ المسیح الثانی میں اللہ کو اللہ تعالیٰ نے بڑی کامیابی عطا