حیات ناصر ۔ جلد اوّل

by Other Authors

Page 232 of 749

حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 232

217 معاملہ اگر اصولاً صحیح ہوتا تو پوری حمایت کرتے اور غلط یا جلد بازی کی بات کو بھی احسن رنگ میں ٹوکتے۔چنانچہ اس واقعہ کے ڈیڑھ دو ماہ بعد مجھے سر را ہے اس قدر فرمایا کہ ایسی باتوں میں پرنسپل سے مشورہ کر لینا چاہئے ۸۹ آپ کا زہد و تقویٰ کالج کے زمانہ میں جب کہ آپ کا قیام تعلیم الاسلام کالج ربوہ میں پرنسپل کی کو بھی میں تھا اور قریب ہی سپرنٹنڈنٹ ہوسٹل چوہدری محمد علی صاحب رہتے تھے۔راجہ غالب احمد صاحب بیان کرتے ہیں کہ وہ جب ۱۹۶۳ء ۱۹۶۴ء میں ائیر فورس چھوڑ کر سکینڈری بورڈ میں بطور ڈپٹی سیکرٹری پوسٹ ہوئے تو ربوہ تشریف لائے اور چوہدری محمد علی صاحب کے پاس ٹھہرے۔انہوں نے پرنسپل صاحب کی کوٹھی پر متعین پٹھان چوکیدار یا ملازم سے آپ کے شب و روز کے بارے میں پوچھا تو وہ کہنے لگے کہ آپ کا کیا پوچھتے ہیں۔آپ تو سارا دن کام کر کے سخت تھک جاتے ہیں رات گئے تک کام کرتے رہتے ہیں اور پھر ڈرائنگ روم میں تہجد ادا کرتے ہیں اور مناجات کرنے اور خدا تعالیٰ کے حضور گڑ گڑانے کی آوازیں باہر تک آتی ہیں۔ذکر الہی کی آپ کو شروع سے ہی عادت تھی۔اکثر اوقات آپ ایک طرف کاغذات پر دستخط فرما رہے ہوتے اور دوسری طرف دل میں خدا تعالیٰ کی تسبیح و تحمید کر رہے ہوتے اور اس کے پاک رسول محمد مصطفیٰ پر درود و سلام بھیج رہے ہوتے۔چنانچہ ایک مرتبہ اس امر کا اظہار آپ نے خلافت کے دوران ایک جلسہ سالانہ پر بھی کیا تھا اور فرمایا تھا کہ آپ نے ایک بار پاس کھڑے ہوئے ہیڈ کلرک جنید ہاشمی صاحب کو بھی تحریک کی تھی کہ وہ کاغذات لے کر کھڑے ہیں اور دستخطوں کے دوران وہ بھی ذکر الہی کریں۔آپ کی نماز تہجد پڑھنے کا واقعہ صاحبزادی امتہ الشکور صاحبہ بیان کرتی ہیں:۔” میں اکثر سوچا کرتی کہ اکثر لوگ اپنے تہجد پڑھنے وغیرہ کا ذکر کرتے ہیں۔ابا نے کبھی نہیں کیا۔نہ ہی میں نے کبھی پڑھتے دیکھا۔اللہ تعالیٰ