حیات ناصر ۔ جلد اوّل

by Other Authors

Page 204 of 749

حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 204

189 بائیالوجی لیبارٹری کے پاس زیر زمین پانی دریافت کرنے کے لئے کھودا گیا تھا۔اللہ تعالیٰ کا فضل ہوا چوٹ نہیں آئی ،گڑھے کے اندر آندھی سے بہت بچاؤ ہو گیا حضور نے قدرے وہیں توقف فرمایا آندھی کی شدت کم ہوئی تو ہاتھ میں ہاتھ دے کر چلے اور بمشکل گھر پہنچے۔" چوہدری صاحب ہی کا بیان ہے۔" اللہ تعالیٰ کا یہ فضل تھا اور آپ کے ساتھ یہ سلوک تھا کہ ایک لاکھ کی منظوری کے ساتھ اس سے کئی گنا قیمت کی عمارت مہینوں میں تعمیر ہو گئی۔" پھر لکھتے ہیں:۔"اللہ تعالٰی کے فضلوں اور احسانوں کے بھی عجیب عجیب معجزے دیکھے۔جب ہال کا لنثل (Lintel) پڑنے والا تھا اور کثیر مقدار میں سیمنٹ اور مصالحہ بھگو کر تیار کیا جا چکا تھا تو سیاہ بادل اٹھا اور گھر کر چھا گیا۔آپ نے ہاتھ اٹھا کر بادل کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا جس کا مفہوم یہ تھا کہ یہ غریب جماعت کی خرچ کی ہوئی رقم ہے۔اگر تو برساتو یہ رقم ضائع ہو جائے گی۔جا یہاں سے چلا جا۔دراصل آپ کی اللہ کے حضور یہ ایک رنگ میں فریاد تھی جو قبول ہوئی اور جس طرح ابر آیا تھا اسی طرح چلا گیا۔۶۱ حضرت صاحبزادہ صاحب نے جس لگن اور محنت سے کالج کی تعمیر کروائی اور اس میں اپنے ہاتھوں سے پودے لگائے اس کا ذکر کرتے ہوئے آپ کی صاحبزادی امتہ الحلیم صاحبہ تحریر کرتی ہیں:۔" جب حضرت صاحب (خلیفہ ثانی) نے ابا کو کہا کہ اب ربوہ آؤ اور کالج بنانا شروع کرو۔تو ابا فوراً ربوہ تشریف لے آئے اور خود اپنی نگرانی میں کھڑے ہو کر کالج بنوانا شروع کیا، شدید گرمیوں کی لمبی دوپہروں میں خود کھڑے ہو کر بشاشت سے دعاؤں سے بہت پیار سے