حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 146
131 پکتی اور شام کے کھانے میں اکثر گوشت ملتا۔میرا گاؤں قادیان سے سات میل کے فاصلے پر تھا۔اکثر جمعرات کی شام کو گاؤں چلا جاتا اور جمعہ کی شام کو واپس آ جاتا۔شام کو ہوسٹل میں کھانے کی میز پر بیٹھا تو بریز آج کوئی نئی چیز پکی ہوئی تھی پرندوں کا گوشت تھا جو حضور نے شکار کر کے طلباء جامعہ کے لئے بھجوائے تھے۔" ال آپ کے شاگرد حکیم خورشید احمد صاحب لکھتے ہیں:۔وو ۱۹۴۳ء میں میں جب ثانیہ میں داخل ہوا۔یہ سال مولوی فاضل کے امتحان کی تیاری کا سال تھا۔میں نے امتحان میں اعلیٰ کامیابی کے حصول کے لئے سخت محنت کی چنانچہ سخت مالی مشکلات اور غذا کی کمی کی وجہ سے میری صحت کافی گر گئی۔بدن کی ہڈیاں باہر نکل آئیں۔بہرحال مئی ۱۹۴۳ء میں مولوی فاضل کا امتحان دے دیا۔جامعہ احمدیہ سے ہمیں رخصت ہو گئی۔نتیجہ نکلنے میں دو ماہ باقی تھے۔مئی کے آخر میں ایک دن آپ نے مجھے اپنی کو ٹھی النصرت بلوایا۔فرمانے لگے، خورشید میں دیکھتا ہوں تمہاری صحت بہت گر گئی ہے۔ہم چند روز تک ڈلہوزی جا رہے ہیں تم بھی ہمارے ساتھ جاؤ گے تمہاری صحت ٹھیک ہو جائے گی۔جاؤ تیاری کرو۔ڈلہوزی میں ہم قریباً چار ماہ رہے۔اس عرصہ میں آپ نے جامعہ احمدیہ کے تین اساتذہ مولانا ارجمند خان صاحب مرحوم - مولانا ابو العطاء صاحب مرحوم اور تیسرے مولانا ابولحسن صاحب قدسی اور دو طلباء مولوی غلام باری سیف اور مولوی عبد القدیر صاحب کو بھی سیر کے لئے بلایا۔ان سب نے حضور رحمہ اللہ تعالیٰ کے مہمان خانہ میں پندرہ روز سے ایک ماہ تک قیام کیا۔جی بھر کر سیر کی اور حضور نے بھی ان کی خاطر و مدارت خاص توجہ سے کی۔جب آپ نے یہ محسوس کیا کہ اب ڈلہوزی ان سب کے چہروں پر نمایاں نظر آنے لگی ہے تو انہیں جانے کی اجازت دی۔ان سب کے قیام کے دوران میں نے حضور