حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 72
72 رض رضا بارات میں آپ کی دادی حضرت ام المومنین ، آپ کی والدہ حضرت سیدہ ام ناصر حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحب اور حضرت مولوی سید سرور شاہ صاحب آپ کے ہمراہ ۴۔اگست ۱۹۳۴ء کو حضرت نواب محمد علی صاحب کے آبائی گاؤں شیروانی کوٹ ریاست مالیر کوٹلہ تشریف لے گئے۔حضرت مصلح موعود نے مولوی سید سرور شاہ صاحب کو امیر قافلہ مقرر فرمایا اور خود دلہن کی طرف سے شامل ہونے کے لئے ۵۔اگست کو بذریعہ کار مالیر کوٹلہ پہنچے۔نہایت سادگی سے رخصتی ہوئی۔۶۔اگست کو بارات دلہن لے کر واپس قادیان پہنچی۔اہالیان قادیان نے بہت گرم جوشی سے استقبال کیا، ریلوے اسٹیشن سے مسجد مبارک تک دونوں طرف رنگ دار جھنڈیاں نصب تھیں۔کئی جگہ محراب بنے ہوئے تھے اور مختلف مقامات پر اس تقریب کے شایان شان اشعار اور دعائیہ کلمات کے قطعات آویزاں تھے۔ہزاروں افراد نے حضرت مصلح موعود کے ساتھ جو کچھ دیر قبل واپس آئے تھے) استقبال کیا اور آپ کے گلے میں پھولوں کے ہار ڈالے۔آپ نے دھوپ والا چشمہ لگایا ہوا تھا اور مجسم شرم و حیا بنے ہوئے تھے۔بارات ایک جلوس کی شکل میں دار المسیح تک پہنچی اور جب بارات احمدیہ چوک پر پہنچی تو حضرت المصلح الموعود نے مسجد مبارک میں کھڑے ہو کر دعا کروائی۔۸۔اگست ۱۹۳۴ء کو حضرت المصلح الموعود نے آپ کے لئے دعوت ولیمہ کا اہتمام فرمایا جس میں قادیان اور ارد گرد کے احباب جماعت اور معززین نے شرکت کی۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ حضرت سیدہ منصورہ بیگم صاحبہ کی پیدائش سے بھی پہلے ان کی والدہ حضرت سیدہ نواب مبارکہ بیگم صاحبہ نے خواب دیکھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام انہیں فرما رہے ہیں کہ تمہارے ہاں بیٹی ہو گی اس کا رشتہ میرے پیارے بیٹے محمود کے بیٹے سے کرنا۔مبارک رشتہ ہو گا۔پاک نسلیں چلیں گی۔چنانچہ سیدہ مبارکہ بیگم صاحبہ فرماتی ہیں۔جب منصورہ بیگم حمل میں تھی۔خواب میں حضرت بانی سلسلہ احمدیہ نے فرمایا کہ تمہاری بیٹی ہو گی اس کی شادی محمود کے بیٹے سے