حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 710
660 نفرت کا نشانہ تھیں ان تک بھی حضور نے عملی طور پر اپنی تحریک کو جاری فرمایا۔حضور نے ۱۹۸۰ء کے دورہ مغرب کے دوران فرمایا:۔1920ء میں میں مغربی افریقہ کے دورہ پر گیا۔میں نے محسوس کیا کہ وہاں کے لوگ محبت کے بھوکے ہیں۔ماضی میں ان پر اتنا ظلم و تشدد کیا گیا ہے کہ اب جب کہ وہ آزاد ہوئے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ کوئی ان سے محبت و پیار کا سلوک کرے۔چنانچہ انہیں ایک نیا تجربہ ہوا۔جب میں نے ان کے ساتھ محبت اور شفقت کا اظہار کیا تو وہ بہت ممنون ہوئے۔نائیجیریا میں ایک صحافی کے سوال کا جواب کا دیتے ہوئے حضور نے فرمایا :۔” بنی نوع انسان کی محبت ہمارے دلوں میں ہے اور یہ محبت ہی ہمیں مجبور کرتی ہے کہ ہم انہیں راہ نجات دکھائیں اور جو خدمت بھی ہم سے بن پڑے اس کو بجالائیں " " براعظم امریکہ میں بھی حضور " محبت کے سفیر بن کر گئے حضور کی ان کوششوں کا اعتراف کرتے ہوئے ایک امریکی ریٹائرڈ جرنیل رولینڈ ڈیل مار (Gon۔Roland delmar) نے استقبالیہ تقریب میں کہا " یہاں بہت سے لوگ نہیں جو آپ سے ملنے اور تبادلہ خیالات کرنے کے متمنی ہیں کیونکہ آپ جہاں بھی جاتے ہیں امن لے کر جاتے ہیں۔آپ امن کی باتیں کرتے ہیں۔امن ہی آپ کی گفتگو کا موضوع ہوتا ہے۔امن کا پر چار ہی آپ کا مشن ہے اور باہمی تفرقوں ، مخاصمتوں اور نفرتوں کو ختم کرنا آپ کا مقصد ہے۔آپ کو تو امریکہ میں زیادہ عرصہ ٹھہرنا اور قیام کرنا چاہئے تاکہ ملاقات کے متمنی آپ سے مل سکیں اور آپ کے بیش قیمت خیالات سے مستفیض ہو کینیڈا میں حضور نے ایک پریس کانفرنس کے دوران اپنی تحریک کو ان الفاظ میں بیان سکیں کیا۔فرمایا :۔