حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 52
52 تھیں۔بہر حال اس سال جلسہ گاہ چھوٹی ہو گئی تھی اور حضرت مصلح موعود بہت ناراض ہوئے۔تمام کارکن بڑے شرمندہ، پریشان اور تکلیف میں تھے۔اس وقت مجھے خیال آیا کہ اگر ہم ہمت کریں تو اس جلسہ گاہ کو راتوں رات بڑھا سکتے ہیں۔لیکن میری عمر بہت چھوٹی تھی اس لئے میں نے خیال کیا کہ میری اس رائے میں کوئی وزن نہیں ہو گا۔ہمارے ماموں سید محمود اللہ شاہ صاحب بھی دفتر میں کام کرتے تھے۔میں نے انہیں کہا کہ مجھے یقین ہے کہ اگر ہم ہمت کریں تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہم راتوں رات جلسہ گاہ بڑھا دیں گے۔آپ ماموں جان (حضرت میر محمد اسحاق صاحب افسر جلسہ سالانہ کے سامنے یہ تجویز پیش کریں۔وہ کہنے لگے یہ خیال تمہیں آیا ہے اس لئے تم ہی یہ بات پیش کرو۔مجھے یاد ہے کہ میری طبیعت میں یہ احساس تھا کہ چھوٹی عمر کی وجہ سے میری رائے کا وزن نہیں ہو گا لیکن یہ کام کرنا ضرور چاہئے۔ماموں جان سید محمود اللہ شاہ صاحب کا خیال تھا کہ چونکہ یہ خیال مجھے نہیں آیا اس کو آیا ہے اس لئے اس کا کریڈٹ میں کیوں لوں؟۔لیکن میں نے کہا میں نے یہ بات پیش نہیں کرنی ، آپ ہی کریں اور ضرور کریں۔میں نے کچھ لاڈ اور پیار سے ان کو منا لیا۔چنانچہ انہوں نے یہ تجویز پیش کی حضرت ماموں جان (حضرت میر محمد اسحاق صاحب نے دوستوں کو مشورہ کے لئے جمع کیا اور بالاخر یہ رائے پاس ہو گئی اور سارا دن کام کرنے کے بعد سینکڑوں رضاکاروں نے ساری رات کام کیا۔ریتی چھلہ سے شہتیریاں اٹھا کر جلسہ گاہ میں لے گئے جو ہمارے کالج کی عمارت (جس میں پہلے ہائی سکول ہوتا تھا) کے پاس تھی۔ایک طرف کی ساری سیڑھیاں جو اینٹوں کی بنی ہوئی تھیں توڑی گئیں اور دوسری سیڑھیاں بنائی گئیں۔رضا کار مزدوروں کی طرح کام کرتے تھے۔مجھے اچھی طرح