حیات ناصر ۔ جلد اوّل

by Other Authors

Page 50 of 749

حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 50

50 کی۔لیکن کتنا پیار اور حسن تھا اس بچے کے اس فعل میں۔اس نے اپنے نفس پر اتنا ضبط رکھا۔اس لئے اس کی یہ خواہش اور جذبہ تھا کہ میں نے مہمان کی خدمت کرنی ہے اگر یہ جذبہ نہ ہوتا تو اس کی ہلکی سی ہچکچاہٹ بھی اس مہمان کو شرمندہ کر دیتی اور اس نے کبھی چائے نہیں لینی تھی لیکن اس نے بغیر کسی ہچکچاہٹ اور کسی اظہار کے کہا۔ہاں میں آپ کے لئے ہی لے کر آیا ہوں۔یہ نظارہ اس قسم کا حسین تھا کہ اس وقت بھی جب کہ میں آپ کو یہ بات سنا رہا ہوں وہ کمرہ اس کا دروازہ تھوڑا سا کھلا ہوا اس لڑکے کی شکل ، وہ مہمان، وہ رخ جس طرف وہ بیٹھے ہوئے تھے میرے سامنے ہیں۔اس نظارہ کو میرے ذہن نے محفوظ رکھا ہے اور میں جب بھی اس واقعہ کے متعلق سوچتا ہوں بڑا حظ اٹھاتا ہوں۔" ۳۰ آپ کو بچپن میں جو خدمت کے موقع ملے ان سے آپ نے بھر پور فائدہ اٹھایا اور عمر کے لحاظ سے جو بھی کام کر سکتے تھے وہ کئے اور کبھی یہ نہ سوچا کہ اب بس کریں اور گھر کو لوٹیں۔چنانچہ آپ نے ایک مرتبہ زمانہ خلافت کے دوران فرمایا:۔" ہم نے بچپن کی عمر میں بھی یہ کبھی نہیں سوچا تھا کہ ہماری چند گھنٹے کی ڈیوٹیاں لگیں گی یعنی یہ کہا جائے گا کہ تم پانچ گھنٹے کام کرو اور باقی وقت تم آزاد ہو۔ہم صبح سویرے جاتے تھے اور رات کو دس بجے گیارہ بجے گھر میں واپس آتے تھے۔وہ فضا ہی ایسی تھی اور ساروں میں ہی خدمت کا یہ جذبہ تھا۔کوئی بھی اس جذبہ سے خالی نہیں تھا۔مجھے یاد ہے کہ بعض دفعہ ماموں جان حضرت میر محمد اسحاق صاحب بمعنی اللہ ) کہتے تھے کہ اب تم تھک گئے ہو گئے ، کھانے کا وقت ہو گیا ہے اب تم جاؤ۔لیکن ہمارا گھر جانے کو دل نہیں چاہتا تھا۔بس یہ ہو تا تھا کہ دفتر میں بیٹھے ہیں اور اپنی عمر کے لحاظ سے جو کام ملتا ہے وہ کر رہے ہیں۔اس