حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 631
پہنچ گئے 580 فرمایا :۔آج میں یہ اعلان کرتا ہوں کہ جماعت احمدیہ ہر ذہین مگر غریب بچے کو پرائمری سے سنبھالے گی۔جماعت کا کوئی ذہین بچہ خواہ وہ افریقہ کے جنگلات میں پیدا ہو یا نیو یارک کے محلات میں ، وہ ماسکو میں پیدا ہو یا خانہ کعبہ کے علاقہ میں پیدا ہو، کوئی ذہین بچہ (جو ذہن خدا کی عطا ہے) ضائع نہیں ہونا چاہئے اور نوع انسانی کو اس بچے کو اس کے ذہن کو سنبھالنا چاہئے۔یہ بنیادی حقیقت اور اصول ہے جو اسلام نے ہمیں بتایا اور جسے اسلام قائم کرنا چاہتا ہے۔۔۔۔۔۔ایک لاکھ پچیس ہزار روپے سالانہ کا وظیفہ انشاء اللہ ہم دیں گے۔اس کے لئے ایک کمیٹی مقرر کر دوں گا۔۔۔۔۔ڈاکٹر عبد السلام صاحب کی یہ عزت افزائی جماعت کرتی ہے اس وقت کہ میں ان کو اس کمیٹی کا صدر بناتا ہوں جن کے ذریعے سوا لاکھ روپے کے وظائف ذہین بچوں کو تقسیم کئے جائیں گے۔دو دعاؤں سے آپ میری مدد کریں ا۔یہ کہ یہ سکیم جو ہے اس کا اجراء جماعت اور قوم کے لئے انتہائی مفید ثابت ہو اور۔اس سے بھی اہم دعا یہ کریں اپنے رب سے کہ اے خدا مرزا ناصر احمد کی یہ خواہش ہے کہ اگلے سو سال میں ایک ہزار انتہائی غیر معمولی ذہین سائنسدان جماعت احمدیہ کو ملیں ، تو اس خواہش کو پورا کر اور اس خواہش کے لئے جو وہ دعائیں کریں ان کو بھی قبول کر اور جو ہم کریں انہیں بھی قبول کر۔۔۔۔۔۔۔۔" " اس کے علاوہ اگلے دس سالوں میں چوٹی کے سو سائنس دان۔اس میں ہر فیلڈ کا سائنس دان شامل ہو۔آسمانوں کی سیر کرنے