حیات ناصر ۔ جلد اوّل

by Other Authors

Page 609 of 749

حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 609

558 تاکہ ہم تیاری کریں اس صدی کے جشن کے منانے کی۔لیکن چونکہ میں سمجھتا ہوں کہ ۱۹۸۹ء کا سال بڑا ہی اہم سال ہو گا اس لئے میری طبیعت کا میلان سو سالہ جشن منانے کی طرف اتنا نہیں (وہ بھی ہم نے ہے جتنا دوسری صدی کے استقبال کی تیاری کی طرف میرا میلان ۲۳ مارچ ۱۸۸۹ء کو پہلی بیعت ہوئی تھی مٹانا ہے اور آج سے سولہ سال بعد ۲۳ مارچ ۱۹۸۹ء کو سو سال گزر جائیں گے۔یہ جو سولہ سال کا عرصہ ہے اس میں جیسا کہ میں نے بتایا دو اغراض کے پیش نظر ایک خدا تعالیٰ کی حمد کے ترانے گانے کے لئے کہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمتوں سے ہمیں پوری ایک صدی تک نواز تا چلا گیا، ہم نے صد سالہ جشن منانا ہے دوسرے ہم نے اللہ تعالیٰ کے حضور عاجزی کے ساتھ سر جھکاتے ہوئے اپنے اس عزم کا اعلان کرنا ہے کہ اے ہمارے رب! ہم اپنی تمام کمزوریوں کے باوجود تجھ سے یہ عہد کرتے ہیں کہ جس طرح ہم نے تھوڑے ہوتے ہوئے پورے ایک سو سال تک تیری راہ میں قربانیاں دیں تاکہ تیرا دین غالب آئے اس کا ایک مرحلہ طے ہو گیا اب دوسرے مرحلہ کے لئے ہمیں قربانیاں دینے کی توفیق بخش۔اسلام کی یہ آخری جنگ ہے اور ساری دنیا پر اسلام نے قیامت تک لئے غالب آتا ہے، اسے تاریخ کی ایک کتاب سمجھیں تو اس کا ایک باب اس صدی کے اختتام پر ہو گا اور پھر ایک دوسرا باب کھلے گا اور ہم نے اپنے اب کے حضور اس موقع پر اس عزم کا اظہار کرنا ہے کہ پہلی صدی میں ہم نے بنیادیں بنائیں ، کچھ عمارتیں بھی کھڑی کیں لیکن ابھی اسلام کی عمارت اتنی بلند نہیں ہوئی اور نہ اس میں اتنی وس پیدا ہوئی ہے کہ اس میں ساری دنیا سا سکے پس حمد اور عزم یہ دو لفظ ہیں جن کا انتہائی مظاہرہ انشاء اللہ تعالی ۱۹۸۹ء میں ہماری طرف سے کیا جائے گا وَ بِاللهِ التَّوْفِيقَ اور