حیات ناصر ۔ جلد اوّل

by Other Authors

Page 603 of 749

حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 603

552 ویسے ہمارے سکولوں میں عیسائی بچے بھی تعلیم حاصل کرتے ہیں اور ہم انہیں بھی زیور علم سے آراستہ کرنا اپنا فرض سمجھتے ہیں" نصرت جہاں سکیم کے نتیجے میں جو تغییر غانا میں آیا اس کا اندازہ حضور کے والہانہ استقبال سے لگایا جا سکتا ہے جو قدم قدم پر حضور" کا کیا گیا۔دس دس ہزار آدمی اچھل اچھل کر اور جھوم جھوم کر حضور سے محبت کا اظہار کرتے رہے اور جوابا حضور ان کی محبت کا جواب نہایت گہری محبت سے دیتے رہے۔جب حضور ایک شہر سے دوسرے شہر کی طرف روانہ ہوتے تو ستر ستر میل کے طویل راستہ میں آنے والی بستیوں اور قصبوں کے باشندے جن میں احمدیوں کے علاوہ باقی مسلمان اور عیسائی بھی شامل ہوتے تھے سڑک کے دونوں طرف کھڑے ہو کر اور ہاتھ ہلا ہلا کر اور نعرے لگا لگا کر حضور کا والہانہ استقبال کرتے رہے اور خوش آمدید کہتے رہے۔ہزاروں لوگ سفید رومال ہلا ہلا کر اور خوشی سے اچھل اچھل کر اور بعض تعظیماً دو ہرے ہو ہو کر اور کھلے ہوئے ہشاش بشاش چہروں کے ساتھ بلند بانگ نعرے لگا لگا کر بڑے ہی والہانہ انداز میں حضور کا استقبال کر رہے تھے۔پچیس پچیس ہزار لوگوں نے ایک ایک وقت میں حضور کی اقتداء میں نمازیں پڑھیں۔صدر مملکت سے ملاقاتیں کیں۔غانا میں ۱۹۸۰ء تک احمدیوں کی تعداد پانچ لاکھ سے تجاوز کر چکی تھی اور وہاں ۳۵۶ جماعتیں قائم تھیں۔حکومت اور عوام دونوں کی طرف سے احمدیت کے بارے میں نہایت اعلیٰ تاثر پایا گیا۔حضور کے دورہ غانا کا رپورٹر لکھتا ہے کہ " سید نا حضرت خلیفۃ المسیح الثالث ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا حالیہ دوره غانا نہ صرف غانا میں جماعت کی ان جملہ تبلیغی، تعلیمی اور طبی خدمات میں وسعت پیدا کرنے کا موجب ہوا ہے بلکہ مغربی افریقہ کے دوسرے ممالک میں بھی ان خدمات کو زیادہ موثر اور نتیجہ خیز بنانے میں بہت مدد ملی ہے کیونکہ اس موقع پر نائیجیریا ، آئیوری کوسٹ ، سیرالیون لائبیریا اور گیمبیا کے مبلغین کرام نیز وہاں کے احمدیہ سیکنڈری سکولوں کے اساتذہ اور احمدیہ ہسپتالوں کے ڈاکٹر صاحبان بھی اکرا آئے ہوئے