حیات ناصر ۔ جلد اوّل

by Other Authors

Page 43 of 749

حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 43

43 اجازت نہ ہوتی۔بڑے ہو کر کوئی ضروری جماعتی کام ہو تا تو نکل سکتا تھا ور نہ کسی اپنے کے گھر جانے کی بھی اجازت نہ تھی۔۲۵۰ حضرت ام المومنین اس کا مبارک وجود آپ کے لئے ایک تربیتی درس گاہ کی حیثیت رکھتا تھا۔بعض باتیں جو بچپن میں آپ نے اس مقدس وجود میں مشاہدہ کیں وہ غیر شعوری طور پر آپ کے ذہن میں راسخ ہو گئیں اور آپ کے عادات و اطوار کا جزو لا نیفک بن گئیں اور آپ کی شخصیت کو اجاگر کر گئیں۔اپنے ہاتھ سے کام کرنا یعنی وقار عمل کرنا بھی آپ نے حضرت اماں جان سے سیکھا۔چنانچہ ایک موقع پر مجلس خدام الاحمدیہ سے خطاب کرتے ہوئے آپ نے فرمایا:۔۔" وقار عمل کے پیچھے جو روح ہے وہ اسلام کے بنیادی مسائل میں سے ہے اور وہ یہ کہ کسی جائز کام کے کرنے سے ہمیں عار نہیں اور یہ روح کوئی معمولی چیز نہیں۔یہ عادت ایسی ہے کہ دنیا اسے دیکھ کر حیران ہو جاتی ہے اور پھر اکثر امور میں انسان کسی دوسرے کا محتاج نہیں رہتا اور جہاں تک اور جس وقت اور جو کام وہ اپنے ہاتھ سے کر سکتا ہے وہ کبھی برداشت نہیں کرتا کہ کوئی اور شخص یہ کام اس کے لئے کرے۔میں حضرت ام المومنین اس کی تربیت میں رہا ہوں اور چھٹ پین کے زمانہ سے ہی میں نے خاص طور پر یہ نوٹ کیا ہے کہ بیماری کے دنوں میں بھی جب آپ کو پیاس لگتی تو تین چار خادمائیں موجود ہونے کے باوجود اٹھ کر خود جاتیں اور پانی کا گلاس بھر میں اور پی لیتیں۔بعض دفعہ یہ دیکھ کر ہمیں تکلیف بھی ہوتی کہ آپ کمزور ہیں، بیمار ہیں ، کیوں ایسا کرتی ہیں۔لیکن وہ کہتی تھیں کہ طاقت رکھتے ہوئے کیوں میں کسی دوسرے سے کام کرواؤں۔بچپن کا یہ سبق میری طبیعت میں غیر شعوری طور پر راسخ رہا۔ایک دفعہ ایک غیر احمدی نے مجھے اس طرف توجہ دلائی۔میں لاہور کالج کے دفتر میں ہو تا۔پیاس لگتی وہاں گھڑا موجود ہو تا۔میں اس میں سے گلاس