حیات ناصر ۔ جلد اوّل

by Other Authors

Page 42 of 749

حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 42

42 اور جس پر حضرت اماں جان نے اپنے ساتھ ان بچوں کو کھانے کے لئے بٹھایا لیکن معلوم نہیں مجھے اس وقت کیا سوجھی کہ میں ان کے رض ساتھ نہ بیٹھا۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اس دن مجھے حضرت اماں جان نے کھانا نہیں دیا۔شام کو میں نے خود مانگ کر کھانا کھایا۔اس میں ایک سبق تھا کہ جس کو دنیا یتیم کہتی ہے۔مسکین کہتی ہے۔خدا تعالیٰ کے بندے مجھتے ہیں کہ ہمارا فرض ہے کہ ہم ان کی حفاظت کریں اور ان کے نگران بنیں۔" مہمان نوازی اور ایثار کا جذبہ پیدا کرنے کے لئے حضرت ام المومنین ” مہمانوں کی خاطر آپ کو کئی مرتبہ جلسہ سالانہ کے دنوں میں زمین پر سلا دیتی تھیں اور پلنگ چار پائیاں وغیرہ مہمانوں کو دے دیتی تھیں چنانچہ آپ اپنے بچپن کے واقعات کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔" مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے دار مسیح ( قادیان میں بہت بڑی حویلی تھی لیکن) جلسہ سالانہ کے دنوں میں حضرت ام المومنین۔۔۔۔۔جن کے پاس میں رہا اور جنہوں نے میری پرورش اور تربیت کی اکثر اوقات ضرورت کے وقت ہمیں زمین پر سلا دیتی تھیں اور اس میں ہمیں بہت خوشی ہوتی تھی ، ہمیں ایک مزہ آتا تھا۔آپ اکثر خود ہی فرمایا کرتے تھے۔صبح اٹھتے ہی سلام کرنے کی عادت اماں جان نے ڈالی تھی۔سکول جانے لگا تو فرمایا کہ سکول سے سیدھے گھر آنا ہے۔سکول سے آتے ہی سلام کرنا اور ہاتھ منہ دھلوانا آپ کا پہلا کام ہو تا۔نماز کا وقت ہو تا تو وضو کروا کر نماز کے لئے بھیج دیتیں۔کھانا کھانے سے پہلے ہاتھ ضرور دھلواتیں۔اونچی آواز میں بسم اللہ پڑھتیں۔ساتھ میں بھی پڑھتا۔شام کو عصر کے بعد کھیلنے کے لئے بھیج دیتیں لیکن یہ حکم تھا کہ مغرب کی اذان کے ساتھ گھر آ جاؤ۔اور پھر مغرب کے بعد کہیں بھی جانے کی