حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 580
فرمایا :۔529 گیمبیا میں ایک دن اللہ تعالیٰ نے میرے اپنے پروگرام نہیں رہنے دیے بلکہ بڑی شدت سے میرے دل میں یہ ڈالا کہ یہ وقت ہے کہ تم کم سے کم ایک لاکھ پونڈ ان ملکوں میں خرچ کرو اور اس میں اللہ تعالٰی بہت برکت ڈالے گا اور بہت بڑے اور اچھے نتائج نکلیں گے۔میرے آنے کے بعد مولویوں نے بڑی مخالفت شروع کر دی ہے اور میں بہت خوش ہوں کیونکہ اس آگ میں سے تو ہم نے بہر حال گزرنا ہے ہمارے لئے یہ پیشگوئی ہے کہ آگ تمہارے لئے ضرور جلائی جائے گی جو الہام ہے تاکہ آگ سے ہمیں مت ڈراؤ آگ ہماری غلام بلکہ غلاموں کی غلام بھی ہے" اس میں دو پیشگوئیاں ہیں ایک یہ کہ تمہیں راکھ کرنے کے لئے آگ جلائی جائے گی اور دوسری یہ کہ وہ آگ تمہیں راکھ نہیں کر سکے گی بلکہ فائدہ پہنچانے والی ہو گی۔تمہاری خدمت کرنے والی ہو گی۔۔۔پھر جب ہم سیرالیون میں آئے تو اور زیادہ جرات تھی کیونکہ اللہ تعالٰی نے کہہ دیا تھا کہ کرو خرچ۔میں اچھے نتائج نکالوں گا چنانچہ وہاں پروگرام بنائے۔پھر میں لندن آیا تو میں نے جماعت کے دوستوں سے کہا کہ مجھے اللہ تعالٰی کا یہ منشاء معلوم ہوا ہے کہ کہ ان چھ افریقی ممالک میں تم کم از کم ایک لاکھ پونڈ خرچ کرو۔۔۔۔اس سلسلہ میں انگلستان کی جماعتوں میں سے۔مجھے دو سو ایسے مخلص آدمی چاہئیں جو دو سو پونڈ فی کس کے حساب سے دیں اور باقی جو ہیں وہ ۳۶ پونڈ دیں۔ان میں سے بارہ پونڈ۔۔۔۔فوری طور پر دے دیں۔میں نے انہیں کہا کہ قبل اس کے کہ میں ان انگلستان چھوڑ دوں اس مد میں دس ہزار پونڈ جمع ہونے چاہئیں اور اس وقت انگلستان سے روانگی میں بارہ دن باقی تھے۔چنانچہ دوستوں کے درمیان