حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 572
521 (۴) انعامی مقالہ جات ย اس کے لئے فاؤنڈیشن نے ہر سال علمی تحقیقی انعامی مقالہ جات لکھوانے کا سلسلہ شروع کیا جس کا مدعا علمی ذوق پیدا کرنا اور کتب تصنیف کرنے کی اس جامع سکیم پر عملدرآمد کرنا تھا جو حضرت المصلح موعود نے ۱۹۴۹ء میں احباب جماعت کے سامنے رکھی تھی۔اول انعام حاصل کرنے والوں کو ایک ہزار روپے سے اڑھائی ہزار روپے تک کے انعامات دیئے جاتے رہے ہیں۔خلافت ثالثہ کے اختتام تک ۲۷ مقالہ جات پر انعام دیئے گئے۔انعامات کی کل رقم پچاس ہزار روپے کے لگ بھگ دی گئی۔(۵) سرائے فضل عمر۔خلافت ثالثہ میں جلسہ سالانہ پر غیر ملکی وفود میں ہر سال اضافہ ہوتا رہا ہے۔غیر ملکی مہمانوں کی رہائش کے لئے مرکز سلسلہ میں کئی گیسٹ ہاؤس بنائے گئے جن میں سے ایک گیسٹ ہاؤس جو تحریک جدید کے احاطہ میں سوا گیارہ لاکھ روپے کی لاگت ۱۹۷۴ء میں تعمیر ہوا اور ” سرائے فضل عمر" کے نام سے موسوم ہے فضل عمر فاؤنڈیشن نے بنوا کر دیا۔اس کا سنگ بنیاد حضرت خلیفہ المسیح الثالث" نے ۳۰ جنوری ۱۹۷۴ء کو اپنے دست مبارک سے رکھا تھا۔اس گیسٹ ہاؤس میں ائیر کنڈیشنرز اور پانی گرم کرنے کے لئے گیزرز بھی نصب کئے گئے ہیں اور یہ گیسٹ ہاؤس جدید قسم کی سہولتوں سے مزین ہے۔(۶) ٹرانسلیشن ہوتھ غیر ملکی مہمانوں کو جلسہ سالانہ پر اصل تقریر کے ساتھ ساتھ ان کے تراجم سنانے کی دقت محسوس کی جا رہی تھی۔غیر ملکی مہمانوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر حضرت خلیفۃ المسیح الثالث " نے یہ خواہش فرمائی کہ ترجمانی کے لئے آلات نصب کر کے غیر ملکیوں کو سہولت دی جائے۔اس پر بعض مخلص انجینئرز کی کوششوں سے ڈیزائن