حیات ناصر ۔ جلد اوّل

by Other Authors

Page 571 of 749

حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 571

520 رم (۳) خلافت لائبریری حضرت مصلح موعود کے زمانہ میں جماعت کے پاس لائبریری کی کتب تو تھیں لیکن ایک وسیع بلڈنگ کی ضرورت محسوس کی جا رہی تھی۔چنانچہ حضرت خلیفہ المسیح الثالث " کی اجازت سے ایک جدید لائبریری کی وسیع عمارت اس فاؤنڈیشن کے ذریعے تعمیر کی گئی جس پر پہلے سوا چار لاکھ روپے خرچ آیا پھر اس کی مزید توسیع کی گئی جس مزید آٹھ لاکھ روپے خرچ ہوئے۔فاؤنڈیشن نے لائبریری آرکیٹکٹس سے با قاعدہ ڈیزائن کروا کر ایک شاندار عمارت کی شکل میں تعمیر کروائی اور اسے جدید فرنیچر اور جدید آلات سے مزین کیا گیا۔اس عمارت کا سنگ بنیاد حضرت خلیفۃ المسیح الثالث" کے دست مبارک سے ۱۸ جنوری ۱۹۷۰ء کو رکھا گیا اور اس کا افتتاح بھی حضور نے ہی فرمایا جو ۳۔اکتوبر ۱۹۷۱ء کو عمل میں آیا۔فاؤنڈیشن نے یہ لائبریری مع فرنیچر صدر انجمن احمدیہ کے سپرد کر دی۔اس لائبریری کا پہلا نام " محمود لائبریری" رکھا گیا جسے بدل کر ” خلافت لائبریری" کر دیا گیا اس لائبریری کی گنجائش پچاس ہزار کتب ہے۔حضرت مصلح موعود نے لائبریری کی اہمیت کے بارے میں فرمایا تھا۔" یہ اتنی اہم چیز ہے کہ ہمارے سارے کام اس سے وابستہ ہیں۔6 تبلیغ اسلام مخالفوں کے اعتراضات کے جوابات ، تربیت، یہ سب کام لائبریری سے ہی تعلق رکھتے ہیں" اور پھر فرمایا:۔لائبریری کے متعلق میرے نزدیک سلسلہ سے بہت بڑی غفلت ہوئی ہے لائبریری ایک ایسی چیز ہے کہ کوئی تبلیغی جماعت اس کے بغیر کام نہیں کر سکتی۔غرض فضل عمر فاؤنڈیشن کے ذریعے مرکز سلسلہ میں ایک جدید لائبریری کا فراہم کرنا حضرت مصلح موعود کے ان اہم کاموں سے تھا، جن سے حضرت مصلح موعود کو خاص دلچسپی تھی اور جن کے پورا کرنے کا عزم نافلہ موعود خلیفہ المسیح الثالث" نے کیا تھا۔۲