حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 38
38 ایک دفعہ قادیان کے ایک مقامی شخص قریشی شاہ محمد صاحب کو بلایا اور انہیں حضور نے ارشاد فرمایا کہ وہ صاحبزادہ صاحب کو گتیکا سکھائیں۔کے حضور نے گٹکے بنوانے کے لئے انہیں کچھ رقم عطا کی اور آب ساتھیوں میں مکرم مرزا عبدالرحمان صاحب ابن مرزا مهتاب بیگ صاحب انچارج احمدیہ درزی خانہ اور یہ خاکسار (ملک محمد عبد الله ) تھے۔قریشی صاحب گنگے کے بڑے ماہر اور پہلوان بھی تھے یہ شوق کوئی مہینہ بھر قائم رہا اور پھر ختم ہو گیا " ول بچپن میں بہادری کا ایک واقعہ صاحبزادی امتہ الشکور صاحبہ لکھتی ہیں :۔" حضور بچپن سے ہی بہت ہمت اور حوصلہ والے اور بڑے بہادر تھے۔کسی کی جان بچانی ہو تو اپنی جان کی پرواہ بالکل نہ کرتے۔ایک بار جب آپ بالکل چھوٹے تھے، آپ اور آپ کی چھوٹی بہن صاحبزادی ناصرہ بیگم موم بتی کے پاس کھیل رہے تھے کہ اچانک بہن کے بالوں کو آگ لگ گئی اور بھائی نے اپنی پروا نہ کرتے ہوئے اپنے ننھے منے ہاتھوں سے اس آ سے اس آگ کو بجھایا اور خدا کے فضل سے بہن جلنے سے بچ گئی۔اس واقعہ سے آپ کی حاضر دماغی اور بلند ہمت اور جرات کا پتہ چلتا ہے۔" بچپن کی تربیت ابھی آپ کی عمر پانچ سال کی ہی تھی کہ آپ کے والد حضرت مصلح موعود خلافت ثانیہ کی مسند پر متمکن ہوئے۔گویا خلافت ثانیہ کے آغاز کے ساتھ ہی آپ کی تربیت کا آغاز ہوا اور اس طرح اللہ تعالٰی نے آپ کو ایک شاندار ماحول عطا فرمایا جس میں ایک