حیات ناصر ۔ جلد اوّل

by Other Authors

Page 34 of 749

حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 34

34 جب تک ایک سے سوال نہ کیا جائے کسی ایک یا سب کا از خود بول پڑنا خلاف اصول تعلیم ہے۔میں نے انہیں متنبہ کیا کہ اگر کوئی طالب علم بغیر ہاتھ کھڑا کئے اور جواب کے لئے منتخب ہونے کے از خود سوال کا جواب دے دے گا تو اس کو سزا دی جائے گی اور ساتھ ہی میں نے ایک سوال بھی کر دیا حسب عادت پھر تقریباً سبھی بول پڑے اور میں نے سختی سے کہا کہ ہر وہ شخص جو بولا ہے کھڑا ہو جائے میرے الفاظ اور لہجہ کی سختی نے ساری کلاس کو خاموش کر دیا اور کسی ایک کو بھی یہ کہنے کی جرات نہ ہوئی کہ اس نے از خود سوال کا جواب دے دیا ہے۔مکمل سکوت اور خاموشی کے عالم میں میری دائیں طرف بیٹھے ہوئے (حضرت) ”میاں ناصر احمد صاحب نے کھڑے ہو کر یہ الفاظ کہے کہ ” بولا تو میں بھی ہوں۔" ee کس قدر بلند اخلاق اور تقویٰ کا مقام حضرت میاں ناصر احمد صاحب" کو بچپن میں ہی حاصل تھا۔اس کا اندازہ اس ایک واقعہ سے بھی بخوبی ہو سکتا ہے کہ جب انہیں معلوم تھا کہ استاد ناراض اور غصے کی کیفیت میں ہے اور بحیثیت طالب علم انہیں وہ سزا بھی ملے گی جس کا استاد اعلان کر رہا ہے اور یہی وجہ ہے کہ ان کے ہم جماعتوں میں سے ان کے علاوہ کسی ایک کو بھی یہ کہنے کی جرات نہ ہوئی کہ انہوں نے استاد کی خواہش کی تعمیل نہیں کی۔اس جہت سے دیکھا جائے تو حضرت مرزا ناصر احمد صاحب کو وہ بلند مقام اور اعلیٰ کردار حاصل تھا اور اللہ تعالیٰ ان کی تربیت اس طرح شروع سے ہی فرما رہا تھا کہ بڑے ہو کر ان پر امامت کا بوجھ پڑنے والا ہے حضور اس کے اٹھانے کے لئے تیار ہوتے رہیں۔"