حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 509
456 خدام الاحمدیہ کی تنظیم اپنے طور پر بحیثیت خدام الاحمدیہ اس بات کا جائزہ لے اور نگرانی کرے کہ کوئی خادم اور طفل ایسا نہ رہے جو قرآن کریم نہ جانتا ہو یا مزید علم حاصل کرنے کی کوشش نہ کر رہا ہو " ۳ حضور نے والدین کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا :۔فرمایا :۔فرمایا :۔" ” جو ماں باپ اپنے بچوں کو جسمانی صحت اور روحانی تربیت کا خیال رکھتے ہوئے ان کے لئے ہر قسم کی قربانی دینے کو تیار ہو جاتے ہیں اللہ تعالٰی کے نزدیک وہ جنت کے مستحق ٹھرتے ہیں۔اگر ایک کھجور اپنے بچہ کو اس رنگ میں اور اس ذہنیت کے ساتھ دینے کے نتیجہ میں جنت ملتی ہے تو جو ماں باپ اپنے بچوں کو قرآن کریم پڑھانے کی کوشش کرتے ہیں تا وہ اسلام کے رنگ میں رنگے جائیں قرآن کریم کے احکام پر عمل کرنے والے بنیں اور دنیا کے سامنے بهترین نمونہ پیش کرنے والے بنیں وہ کس قدر بلند درجات کے مستحق ہیں ہیں۔”جب تک آپ قرآن کریم کی عزت کو دنیا میں قائم کرنے کی کوشش نہیں کریں گے۔میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ آپ اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں بھی اور دنیا کی نگاہ میں بھی کبھی عزت حاصل نہیں کر سکتے؟ " حقیقی سکون اسے ہی ملتا ہے جو قرآن کریم کی روشنی میں اپنی زندگی گزارے۔اور حقیقی فلاح وہی پاتا ہے جو قرآن کریم کے نور سے حصہ لیتا ہے اور قرآن کریم کی بتائی ہوئی صراط مستقیم پر ہمت کے ساتھ اور عزم کے ساتھ اور جوش کے ساتھ ، پیار کے ساتھ اور محبت کے ساتھ اور ایک تڑپ کے ساتھ گامزن رہتا ہے۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو قرآن کریم پر عمل کرنے کی توفیق عطا کرے " "