حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 33
33 بڑا لڑکا ہونے کی وجہ سے یہ سب اساتذہ آپ کا بہت خیال رکھتے تھے اور بڑی محبت سے آپ کو پڑھاتے تھے۔ย حضرت مصلح موعود کی یہی خواہش تھی کہ حضور کا سب سے بڑا بیٹا قرآنی علوم حاصل کرے اور اس کی بنیادوں میں قرآن کریم اور دینی علوم اچھی طرح راسخ ہو جائیں تاکہ آپ بڑے ہو کر خدمت دین کے کاموں میں لگ جائیں۔چنانچہ آپ نے اول طور پر قرآن کریم ناظرہ پڑھا پھر اسے حفظ کیا اور مولوی فاضل کی ڈگری حاصل کی۔اس کے بعد آپ نے تمام مضامین لے کر میٹرک کا امتحان پاس کیا۔میٹرک کا امتحان پاس کرنے کے بعد آپ گورنمنٹ کالج لاہور میں داخل ہوئے جہاں سے ۱۹۳۴ء میں آپ نے بی اے کی ڈگری حاصل کی۔آپ کے ایک استاد اس زمانے کا واقعہ بیان کرتے ہیں جب آپ پرائیویٹ طالب علم کے طور پر میٹرک کی تیاری کر رہے تھے جس سے ابتداء سے ہی آپ کے بلند اخلاق اور تقویٰ کے مقام پر فائز ہونے پر روشنی پڑتی ہے مکرم میاں محمد ابراہیم صاحب جمونی بیان کرتے ہیں:۔میں جب دسمبر ۱۹۲۹ء کے آخر میں تعلیم الاسلام ہائی سکول قادیان میں اپنے کیرئیر CAREER کے آغاز میں حضرت خلیفۃ المسیح الثانی اللہ تعالیٰ آپ سے راضی ہو) کے حکم سے انگریزی پڑھانے پر مامور ہوا۔ان ایام میں (حضرت) ”میاں ناصر احمد صاحب" مولوی فاضل پاس کرنے اور قرآن کریم حفظ کرنے کے بعد پرائیویٹ طور پر میٹرک کے امتحان کی تیاری کر رہے تھے اور اس غرض کے لئے سکول میں بھی تشریف لایا کرتے تھے اور خاکسار کی انگریزی کی کلاس میں شامل ہوا کرتے تھے۔میں نے سکول میں جاتے ہی طلباء کی یہ کمزوری نوٹ کرلی کہ جب ان سے کوئی سوال کیا جاتا ہے تو سب کے سب بغیر پوچھے جواب دے دیتے ہیں۔دو تین روز تک انہیں یہ سمجھانے کے بعد کہ