حیات ناصر ۔ جلد اوّل

by Other Authors

Page 485 of 749

حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 485

430 تجهیز و تکفین دستور کے مطابق تدفین سے قبل خلافت رابعہ کا انتخاب عمل میں آیا‘ ۱۰ جون ۱۹۸۲ء بروز جمعرات بعد نماز ظہر کثرت رائے سے حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز خلیفة المسیح الرابع منتخب ہوئے۔سید نا حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ کا جسد اطہر شام پانچ بج کر اٹھارہ منٹ پر خاندان حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے نوجوانوں نے اٹھا کر قصر خلافت کی عمارت سے باہر لا کر چارپائی پر رکھا۔اس چارپائی پر ایک سفید چادر ڈالی ہوئی تھی اور دو لمبے بانس جوڑ کر چارپائی کے نیچے سے گزارے گئے تھے تاکہ کندھا دینے والوں کی زیادہ تعداد شامل ہو سکے۔تابوت کے باہر آنے کے ساتھ ساتھ سیدنا حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب خلیفة المسیح الرابع ایدہ اللہ تعالیٰ بھی باہر تشریف لائے۔جنازہ اٹھانے کے وقت سیدنا حضرت خلیفة المسیح الرابع ایدہ اللہ تعالٰی نے بھی کندھا دیا اور درود شریف اور لَا اِلهَ إلا الله کے ورد کے ساتھ جنازہ اٹھایا گیا۔بج کر اٹھارہ منٹ پر قصر خلافت سے جنازہ روانہ ہوا۔جنازے کے گرد خدام کی تین دائرہ نما دیواریں کھڑی کر دی گئی تھیں تاکہ جنازے کو کندھا دینے کی غرض۔رش کے طور پر لوگ آگے بڑھنے کی کوشش نہ کریں۔قصر خلافت کے احاطے سے لے کر بیرونی گیٹ سے باہر میر داؤد احمد صاحب مرحوم کے مکان تک پروگرام کے مطابق حضرت خلیفۃ المسیح الثالث کی اولاد اور خاندان مسیح موعود کے دیگر افراد نے کندھا دیا اس کے بعد ناظر صاحبان، وکلاء صاحبان اور دیگر خصوصی مہمانوں نے مزید نصف فرلانگ تک کندھا دیا ، اس کے بعد خاندان مسیح موعود اور دیگر احباب نے کندھا دیا۔سیدنا حضرت خلیفہ المسیح الرابع آخر وقت تک جنازے کے پیچھے پیدل چلتے رہے۔جنازہ قصر خلافت سے نکلنے کے بعد میر داؤد احمد صاحب مرحوم، مرزا انور احمد ”