حیات ناصر ۔ جلد اوّل

by Other Authors

Page 481 of 749

حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 481

426 میرے مہربان اور رحمان خدا تو ان کا ہو جا اور یہ تیرے ہو جائیں۔میری آنکھیں ہمیشہ ان سے ٹھنڈی رہیں۔میرا دل ہمیشہ ان سے راضی رہے اور میری روح ہمیشہ ان سے خوش رہے۔اے میرے رب! مجھے ان کی تکلیف نہ دکھا۔ہر خیران کو عطا کر اور ہر بھلائی کا ان کو وارث کر۔یہ دنیا میں تیری بادشاہت اور دلوں میں تیری اور تیرے مقدس رسول ملی ہی کی محبت قائم کرنے والے ہوں۔اے خدا تو ایسا ہی کر۔والسلام مرزا ناصر احمد ۸-۱۲ ۱۳۶۰ / ١٩٨١ اٹھارہواں سال (۱۹۸۲ء) ۱۹۸۲ء تک جماعت کے کاموں میں جو وسعت پیدا ہو چکی تھی اس کے پیش نظر حضور نے سال کے شروع میں ہی تعلیم یافتہ نوجوانوں کو وقف زندگی کی تحریک فرمائی۔پینش ، فرانسیسی اور اٹالین زبانوں میں قرآن کریم کا ترجمہ شروع کروایا، صد سالہ جوبلی منصوبہ کے دفتر بیت الاظہار " کا ۲۳ مارچ ۱۹۸۲ء کو سنگ بنیاد رکھا۔قصر خلافت اور پرائیویٹ سیکرٹری کی عمارات کی تعمیر پر ڈیوٹی دینے والے آرکیٹیکس اور انجینئرز کی بھی اسی روز دعوت فرمائی۔۶۳ ویں مجلس مشاورت منعقد کروائی۔خلافت لائبریری میں ٹیسکٹ بک سکیم کا اجراء فرمایا۔بیرون ملک مشنز، تعلیمی اداروں اور طبی اداروں میں مسلسل وسعت پیدا ہوتی رہی۔نصرت جہاں سکیم کے تحت نائیجیریا اور گیمبیا میں علی الترتیب ایک سکول اور ہسپتال کے نے حصے کا سنگ بنیاد رکھا گیا قادیان سے خدام الاحمدیہ کا ترجمان "مشکوة " جاری ہوا۔زمبابوے میں سالسبری میں مشن ہاؤس کے لئے زمین خریدی گئی، ٹوگو میں پہلی مسجد احمدیہ کی تعمیر ہوئی۔حضرت سیدہ منصورہ بیگم صاحبہ کی وفات سے عورتوں اور خلیفہ وقت کے درمیان