حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 480
425 کے لئے میں آپ سب کا ممنون ہوں۔اس کے شکریہ میں میں آپ کے لئے دعا ہی کر سکتا ہوں۔میرا رب آپ کے اس اخلاص کو قبول کرے۔آپ پر اپنی رحمتیں اور برکتیں نازل کرے۔ہر دکھ ہر پریشانی سے آپ کو بچائے۔جس طرح وفات سے اگلے روز جمعہ کے خطبہ میں میں نے بتایا تھا۔منصورہ بیگم کو خدا نے ان تمام خوبیوں سے نوازا تھا جو میری ذمہ داریوں کی ادائیگی کے لئے میری شریک حیات میں ضروری تھیں۔وہ میری ہر ضرورت کا خیال رکھتیں، ہمہ وقت مجھے آرام پہنچانے کی کوشش میں لگی رہتیں اور یہ دھیان رکھتیں کہ مجھے اپنے فرائض انجام دینے میں کسی قسم کی الجھن اور پریشانی نہ ہو۔بڑی صائب الرائے تھیں۔ہمیشہ مشورہ اور درست رائے دیتیں۔جماعت کے کاموں میں میری معاون اور مددگار تھیں۔سچ تو یہ ہے کہ ۴۷ سال کی اس رفاقت میں انہوں نے ہمیشہ میری ہی مانی ، کبھی اپنی نہیں منوائی۔اپنی بات ہمیشہ چھوڑی اور اپنی مرضی میری مرضی پر قربان کی۔آپ سب کے لئے ان کے دل میں محبت اور پیار کے گہرے جذبات تھے۔وہ ہمیشہ آپ کی خیر خواہ رہیں اور آپ کی بھلائی کے لئے دعائیں کرتی رہیں۔اس لحاظ سے آپ پر ان کا یہ حق ہے کہ آپ ان کے لئے دعا کریں کہ آخری اور دائمی زندگی کا مالک انہیں اپنی رحمت اور بخشش کی چادر میں ڈھانپ لے اور جس طرح ان کی یہ زندگی اس کے سایہ میں گزری ہے اس زندگی میں بھی وہ اس کی رحمت کے سایہ میں جگہ پائیں۔اے ہمارے رحیم اور ودود خدا! تیری شفقت اور محبت اور پیار کی نظر ان پر رہے اور سکینت اور قرار انہیں عطا ہو۔تیرا مقدس رسول میں لی جس کی وہ عاشق تھیں اور تیرا برگزیدہ جس کی وہ بیٹی اور بہو تھیں، انہیں اپنی محبت اور اپنے پیار کی آغوش میں جگہ دیں۔اے میرے رب! میرے رحیم اور کریم خدا! میرے پیاروں کو اپنی پناہ میں رکھ۔جس پیار اور محبت اور اپنائیت اور اخلاص کا اظہار انہوں نے میرے ساتھ کیا ہے اسی پیار اور محبت کا سلوک تو ان سے کر۔شفقت اور رحمت کی نظر سے ان کو دیکھ۔اے