حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 479
424 اس موقعہ پر حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ کا احباب جماعت کے نام خصوصی پیغام بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَانِ الرَّحِيمِ نَحْمُدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُوْلِهِ الْكَرِيمِ خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ جان سے پیارے بھائیو اور بہنو! (ھوالناصر) السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاته بلانے والا ہے سب سے پیارا اسی پہ اے دل تو جان فدا کر آنکھیں اشکبار ہیں اور دل غمگین و محزون ، مگر ہم اپنے رب کی رضا پر اور اس کی تقدیر پر خوش ہیں کہ بلانے والا ہمیں جانے والے سے زیادہ پیارا ہے۔اس کا ہر کام حکمت اور مصلحت پر مبنی ہوتا ہے۔ہم سب اس کی امانتیں ہیں۔منصورہ بیگم بھی اسی کی امانت تھیں سو اس نے واپس لے لی ، إِنَّ اللَّهِ وَ إِنَّا اَلِيْهِ رَاجِعُونَ۔ہم اس پر توکل کرتے ہیں اور اس کی طرف سے آنے والے اس بھاری امتحان کو قبول کرتے ہیں۔- اِنّى مَعَ اللَّهِ فِى كُلّ حَالٍ ہمارے دل کی آواز اور ہماری روح کی پکار ہے۔منصورہ بیگم کی بیماری میں بھی اور وفات کے بعد بھی آپ سب نے جس پیار اور محبت اور ہمدردی کا مظاہرہ کیا ہے اس سے ایک بار پھر ہمارے محبوب اور ہمارے پیارے میم کے اس ارشاد کی سچائی ظاہر ہو جاتی ہے کہ مومن ایک ہی جسم کے اعضاء ہیں ، جب ایک عضو کو تکلیف پہنچتی ہے تو سارا جسم اسے محسوس کرتا ہے۔اس لئے یہ درد اور یہ غم مشترک اور یہ صدمہ سانجھا ہے۔اور یہ سب ہمارے آقا و مولیٰ اور آپ کے عاشق صادق کی ہی برکت ہے۔آپ کے اس پیار اور محبت اور اخلاص کی میرے دل میں بہت قدر ہے اور اس