حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 463
408 کا اجراء ہوا۔مغربی جرمنی میں انصار اللہ کا پہلا سالانہ اجتماع ہوا اور انڈونیشیا میں خدام الاحمدیہ کا پہلا اجتماع ہوا اس طرح دنیا کے اطراف و جوانب میں سلسلہ کے کاموں میں وسعت پیدا ہوتی چلی گئی اور ہر نیا دن احمدیت کی ترقی اور فتح و نصرت کا پیغام لے کر آیا۔اس سال ہندوستان میں مشن ہاؤس مدراس کا افتتاح ہوا جو صاحبزادہ مرزا وسیم احمد صاحب نے فرمایا۔اب تک جو وسعت پیدا ہو چکی تھی اس کا ذکر کرتے ہوئے حضور ” نے ۱۹۷۹ء کے جلسہ سالانہ پر فرمایا :- " میں جماعت پر اللہ تعالیٰ کے بے شمار فضلوں میں سے چند ایک کا منادی بن کر کھڑا ہوں۔دنیا کے کونے کونے سے جماعت احمدیہ پر اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کی رحمتیں موسلادھار بارش کی طرح برس رہی ہیں ، ہمارے پاس وہ زبان نہیں کہ اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کا شکر ادا کر سکیں، زبان میں وہ الفاظ نہیں کہ اس کی عظمت، جلال، وحدانیت قدرت، محبت، رحمانیت اور رحیمیت کے جلووں کو اپنے احاطہ میں لاسکے۔خدا کی باتیں خدا ہی سمجھ سکتا ہے۔بد بخت ہے وہ جو کہ خدا سے بے وفائی کرتا ہے۔۲۷ سولہواں سال (۱۹۸۰ء) ۱۹۸۰ء کا سال اللہ تعالیٰ کے غیر معمولی فضلوں اور نشانوں کا سال ثابت ہوا یہ سال چودھویں صدی اور پندرھویں صدی ہجری کا سنگم تھا۔چودھویں صدی کے ختم ہونے سے پہلے وہ مبارک لمحہ آیا جب غیر معمولی حالات میں ساڑھے سات سو سال بعد حضرت خلیفہ المسیح الثالث اور حضور کی حرم سیدہ منصوره بیگم صاحبہ نے سپین میں پہلی مسجد کا سنگ بنیاد رکھا۔یہ ۹۔اکتوبر ۱۹۸۰ء جمعرات کا مبارک دن تھا جو تاریخ میں قیامت تک یاد رکھا جائے گا۔ایک وہ دن تھا جب