حیات ناصر ۔ جلد اوّل

by Other Authors

Page 456 of 749

حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 456

401 ہے لیکن اس کے ذریعے تیرے محمد صلی ) کا نام دنیا کے کونے کونے میں پہنچ رہا ہے۔اگر آج یہ پودا برباد ہو گیا تو الہی تیرے محمد ( م ) کا نام دنیا میں کیسے بلند ہو گا؟ ۲۰ چنانچہ ۱۹۷۴ء کے دنوں کا ذکر کرتے ہوئے حضور نے فرمایا:۔دنیوی لحاظ سے وہ تلخیاں جو دوستوں نے انفرادی طور پر محسوس کیں وہ ساری تلخیاں میرے سینے میں جمع ہوئی تھیں، ان دنوں مجھ پر ایسی راتیں بھی آئیں خدا کے فضل اور رحم سے ساری ساری رات ایک منٹ سوئے بغیر دوستوں کے لئے دعائیں کرتا رہا۔" اس ایک اور موقع پر فرمایا :۔بعض دفعہ ایسے حالات بھی آئے ہیں وہ ہفتوں ساری رات آپ کے لئے دعائیں کر رہا ہوتا ہے جیسے ۱۹۷۴ء کے حالات میں دعائیں کرنا پڑیں۔میرا خیال ہے کہ دو مہینے میں بالکل سو نہیں سکا تھا۔کئی مہینے دعاؤں میں گزرے تھے۔" گیارھواں سال (۱۹۷۵ء) ۱۹۷۵ء میں حضور علاج کی غرض سے یورپ تشریف لے گئے اور انگلستان، مغربی جرمنی ، ڈنمارک، ناروے، ہالینڈ اور سوئٹرز، رلینڈ کا دورہ بھی فرمایا۔انگلستان کے جلسہ سالانہ میں شرکت فرمائی اور سویڈن کے شہر گوٹن برگ میں مسجد ناصر کا سنگ بنیاد رکھا۔حضور نے لندن میں عید الفطر پڑھائی امام وقت کے لندن میں عید پڑھانے کا یہ پہلا موقع تھا۔مغربی افریقہ میں اس سال سیرالیون میں نئی مسجد بنی اور مشرقی افریقہ میں مسجد احمدیہ کیفیا کی تعمیر شروع ہوئی۔بھارت میں مسجد محمود آباد کیرنگ اڑیسہ انڈیا کی تعمیر مکمل ہوئی اور مسجد احمد یہ بھاگلپور (بہار) کا ایک حصہ مکمل ہوا۔۱۹۷۵ء کے جلسہ سالانہ ربوہ پر حضور نے پوری قوم اور جماعت کے ذہین بچوں کی بیرون ملک اعلیٰ تعلیم کے لئے وظائف کا اعلان فرمایا۔