حیات ناصر ۔ جلد اوّل

by Other Authors

Page 446 of 749

حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 446

391 عالم اسلام سے حضور کی محبت اور ہمدردی اور خیر خواہی کے عملی اظہار کے طور پر حضور نے صدر انجمن احمدیہ کے ذریعے ترکی ریلیف فنڈ اور مشرقی پاکستان کے سیلاب زدگان کے لئے عطیہ جات بھیجوائے۔ساتواں سال (۱۹۷۱ء) ۱۹۷۱ء کے شروع میں حضور کو گھوڑے سے گرنے کا حادثہ پیش آیا اور حضور کئی ماہ تک صاحب فراش رہے۔۱۹۷۰ ء میں حضور نے نصرت جہاں سکیم " کا اعلان فرمایا تھا اس کے اگلے ایک دو سالوں میں مغربی افریقہ کے ممالک غانا گیمبیا سیرالیون نائیجیریا لائبیریا اور آئیوری کوسٹ میں سکول اور ہسپتال (ہلیتھ سنٹر) کھولے گئے۔افریقہ کے محاذ پر عیسائیوں کو یہ محسوس ہوا کہ احمدیت کے ذریعے وہاں کے باشندے اسلام کی طرف جوق در جوق جا رہے ہیں جس پر ان کے پوپ کی طرف سے اسلام کو بطور دین پہلی مرتبہ ۱۹۶۲ء میں Recognise (تعلیم) کیا گیا جس کا پوپ نے باقاعدہ اعلان کیا اور مسلمان ریاستوں کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کئے اور ان کو برانگیختہ کیا کہ مغربی ممالک اور افریقن ممالک میں اسلام کی نمائندگی ایک ایسی جماعت کر رہی ہے جس کے خلاف آپ کے علماء کی طرف سے کفر کا فتویٰ لگ چکا ہے۔پوپ کا مقصد یہ تھا۔کہ جماعت احمدیہ کا افریقی ممالک سے اثر و رسوخ کم ہو جائے لیکن خدا تعالیٰ کی تقدیر کے آگے ان کے منصوبے ناکام رہے۔اس سال ملکی حالات خراب ہو گئے اور بھارت اور پاکستان کے درمیان ایک خونریز جنگ ہوئی۔اس کے نتیجہ میں برصغیر میں ”بنگلہ دیش" کے نام سے ایک نئی مملکت قائم ہوئی۔انہی حالات کی وجہ سے اس سال جلسہ سالانہ اپنی مقررہ تاریخوں پر نہ ہو سکا۔حب الوطنی کے جذبہ کے تحت حضور کی اجازت سے جماعت کی مختلف تنظیموں نے دفاعی فنڈ میں عطیہ جات دیئے۔حضور نے ملک کی خوشحالی اور استحکام کے لئے دعاؤں کی تحریک فرمائی۔