حیات ناصر ۔ جلد اوّل

by Other Authors

Page 27 of 749

حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 27

27 سے قادیان سے باہر ہی گزرا لیکن چھٹی لے کر کبھی جلسہ سالانہ پر کبھی اور دنوں میں سال میں ایک مرتبہ ابا جان ضرور قادیان آیا کرتے تھے اور حضرت اماں جان کے پاس قیام ہوتا تھا۔ایک دفعہ لمبے عرصے کے لئے قادیان میں اس مکان میں رہے جس میں بعد میں حضرت سیدہ ام طاہر احمد رہا کرتی تھیں۔اس وقت پہلی بار حضرت مرزا ناصر احمد کو حضرت اماں جان کے گھر دیکھا اور یہی سمجھا کہ حضرت اماں جان کے بیٹے ہیں۔ذرا بڑی ہوئی تو معلوم ہوا کہ بیٹے نہیں ہوتے ہیں لیکن اماں جان کی آغوش محبت میں پلے ہیں اور آپ کے پاس ہی رہتے ہیں۔" ہی دراصل حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب کو بہت بچپن سے ہی آپ کی دادی حضرت سیدہ نصرت جہاں بیگم نے اپنے پاس رکھ لیا تھا۔چنانچہ اس بارہ میں آپ کی بهن صاحبزادی سیدہ ناصرہ بیگم صاحبہ بیان کرتی ہیں کہ : ">۔۔۔میرے بھائی ہمارے گھر سے حضرت اماں جان نور اللہ مرقدھا کے گھر برائے پرورش و تربیت منتقل ہو گئے۔کبھی بچپن میں زیادہ بیمار ہوتے تو امی جان مرحومہ کے پاس بھیج دیئے جاتے ورنہ حضرت اماں جان کی زیر تربیت اور ان کی نگرانی میں رہے۔" آپ کی دادی حضرت اماں جان " کو آپ سے بہت محبت تھی اور شروع سے ہی وہ آپ کا بہت خیال رکھتی تھیں۔چنانچہ آپ کی بہن رقمطراز ہیں۔حضرت اماں جان ' حضرت بھائی جان سے بہت محبت کرتی تھیں اور بہت خیال رکھتی تھیں۔کھانے کے اوقات کا ان کے آرام کا اور ساتھ ہی تربیت کے پہلو نظر انداز نہ کرتیں۔" آپ کے ساتھ جتنی گہری محبت آپ کی دادی حضرت اماں جان کو تھی اس کا ذکر کرتے ہوئے آپ کے بچا زاد بھائی صاحبزادہ مرزا مظفر احمد (ایم ایم احمد ) جو آپ کے ہم عصر تھے بیان کرتے ہیں۔بھائی جان جب بھی گھر سے باہر جاتے تھے حضرت اماں جان سے