حیات ناصر ۔ جلد اوّل

by Other Authors

Page 26 of 749

حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 26

26 حضرت اماں جان کی آغوش محبت میں پرورش۔الله الہی وعدوں کے مطابق چونکہ آپ نے بھی بڑے ہو کر حمایت دین اسلام کی جدوجہد میں جماعت احمدیہ کی قیادت کرنی تھی اور اپنے جد امجد کے ان انوار کو جن کی ان کے ہاتھ سے تخم ریزی ہوئی تھی دنیا میں پھیلانا تھا اس لئے اللہ تعالیٰ کی مشیت کے تحت بچپن ہی سے آپ کو آپ کی دادی حضرت ام المومنین سیدہ حضرت نصرت جہاں بیگم المعروف حضرت اماں جان نے اپنی گود میں لے لیا۔وہ آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہامات کی روشنی میں اپنے چوتھے بیٹے مبارک احمد کا نعم البدل اور اپنا (پانچواں) بیٹا خیال فرماتی تھیں حضرت سیدہ نصرت جہاں بیگم وہ مقدس خاتون تھیں جن کے ساتھ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام نے اللہ تعالیٰ کی عظیم بشارتوں کے ماتحت شادی کی ہے جن کے ذریعے اس مبارک نسل کا سلسلہ چلا جس کی پیشگوئی آنحضر م م ل ل ا ل لیلی نے ان الفاظ میں فرمائی تھی۔يَنْزِلُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ إِلَى الْأَرْضِ فَيَتَزَوَّجُ وَيُوْلَدُ لَهُ - ٣ لضير چنانچہ حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد کا اپنی مقدس دادی کی گود میں پرورش پانا کوئی اتفاقی بات نہ تھی بلکہ اللہ تعالی کی خاص تقدیروں میں سے ایک تقدیر تھی۔اکثر لوگ جو پہلی مرتبہ آپ کو اپنی دادی کے گھر میں دیکھتے تو ان کا خیال یہی ہوتا کہ صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب حضرت سیدہ نصرت جہاں بیگم صاحبہ کے حقیقی بیٹے ہیں۔چنانچہ حضرت سیده مریم صدیقہ صاحبہ بیان کرتی ہیں کہ وہ بچپن میں اپنے والد حضرت ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب جو حضرت اماں جان نصرت جہاں بیگم کے حقیقی بھائی تھے) کے ساتھ قادیان آئیں اور حضرت اماں جان کے پاس ٹھہریں اس وقت پہلی بار صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب کو حضرت اماں جان کے گھر دیکھ کر انہوں نے یہی سمجھا کہ آپ حضرت اماں جان کے بیٹے ہیں۔سیدہ مریم صدیقہ صاحبہ یہ واقعہ یوں بیان کرتی ہیں۔"میرا بچپن حضرت ابا جان (ڈاکٹر میر محمد اسماعیل) کی ملازمت کی وجہ