حیات ناصر ۔ جلد اوّل

by Other Authors

Page 426 of 749

حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 426

371 میں ٹی آئی کالج میں پرنسپل تھا، کالج لاج میں میں اپنے بیوی بچوں کے ساتھ رہا کرتا تھا۔میں وہاں آیا۔میری طبیعت پر بڑا بار تھا کہ میں آیا صدیقہ ام متین صاحبہ کو یا مہر آپا کو یا ہماری تیسری والدہ تھیں ان کو Disturb کروں اپنی رہائش کے لئے۔لیکن میرے پرائیویٹ سیکرٹری کا دفتر وہاں تھا، وہیں سارے کام کرنے پڑتے تھے۔چنانچہ دفتر کے اوپر دو تین کمرے تھے ان ہی میں ہم لٹکے رہے اس وقت تک جب تک کہ سہولت کے ساتھ سب کا دوسری جگہ انتظام نہیں ہو گیا۔خلافت کے بڑے تھوڑے عرصہ کے بعد غالبا ۱۹۶۶ء میں نومبر کی بات ہے ظہر کی نماز پڑھانے کے بعد میں واپس آیا اور دفتر کے اوپر کمرے میں سنتوں کی نیت جب باندھی تو میرے سامنے خانہ کعبہ آ گیا یعنی کشفی حالت میں نہیں ، جس میں آنکھیں بند ہو جاتی ہیں بلکہ کھلی آنکھوں کے ساتھ دیکھا، یعنی نظارہ یہ دکھایا گیا کہ میرا رخ ایک Angle (زاویہ) بائیں طرف اور میں نے سیدھا کر لیا منہ خانہ کعبہ کی طرف اور نظارہ بند ہو گیا۔میں نے سوچا کہ یہ تو نہیں خدا کا منشاء کہ میں ہر دفعہ آکر قبلہ ٹھیک کروایا کروں مطلب یہ ہے کہ میں تمہارا منہ جس مقصد کے لئے تمہیں کھڑا کیا ہے، اس سے ادھر ادھر نہیں ہونے دوں گا۔لہ غرض خدا تعالیٰ نے خود آپ کو خلافت کے قیام پر فائز فرمایا اور آپ کے ذریعے ایک مبارک دور کا آغاز ہوا جیسا کہ الہی نوشتوں میں کہا گیا تھا۔رض مبارک دور کا آغاز حضرت مصلح موعود نے ۲۴ اگست ۱۹۴۵ء کے خطبہ جمعہ میں جو حضور نے ڈلہوزی کے مقام پر ارشاد فرمایا تھا ۱۹۶۵ء میں ایک انقلاب انگیز دور شروع ہونے کی پیشگوئی کی تھی حضور نے فرمایا:۔" میں نے اللہ تعالیٰ کے فضل سے پچھلے دس سال میں جو باتیں اپنی