حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 425
370 ہیں۔کوئی ایک آدمی یہ سمجھے کہ خدا مجبور ہو گیا میں اکیلا اس کے دربار میں تھا اور اس نے مثلا میں اپنی مثال لیتا ہوں، اگر میں یہ سمجھوں کہ میں اکیلا تھا اور خدا مجبور ہوا مجھے خلیفہ مقرر کرنے کے لئے یعنی مجھے پکڑ لے اور خلیفہ مقرر کر دے۔تو میرے جیسا پاگل دنیا میں اور کوئی نہیں ہو سکتا۔اس بھرے دربار میں خدا نے اپنی مرضی چلائی۔ہم تو اس وقت یعنی انتخاب خلافت کے وقت آنکھیں نیچی کئے ہوئے اپنے غم اور اپنی فکروں میں بیٹھے ہوئے تھے۔" فرمایا :۔" یہ سمجھنا کہ جس آدمی کو خدا تعالیٰ کسی کام کے لئے چنے دنیا کا کوئی انسان یا منصوبہ خدا تعالیٰ کے اس انتخاب کو غلط کر سکتا ہے تو یہ غلط ہے کیونکہ دینے والا تو وہی خدا ہے۔۔۔۔۔۔خدا کے در کے علاوہ آپ کون سی چیز کہاں سے لے کر آتے ہیں؟ قرآن کریم میں خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے۔۔۔۔( یہ یاد رکھیں خصوصا نئی نسل) کہ انتخاب ہوتا ہے لیکن خلیفہ اللہ تعالیٰ ہی بناتا ہے۔حضرت خلیفہ اول بنیاشی کے زمانہ میں بعض لوگوں نے جو بعد میں الگ ہو گئے تھے ان میں سے کسی نے کہا کہ ہم نے خلیفہ منتخب کیا ہے۔آپ نے فرمایا میں تمہارے انتخاب پر تھوکتا بھی نہیں ہوں، مجھے جس نے خلیفہ بنانا تھا اس نے بنا دیا۔" پھر فرمایا :۔”میری خلافت کے تھوڑے ہی عرصہ بعد مجھے اللہ تعالیٰ نے الہاما فرمایا :- يَا دَاوُدُ إِنَّا جَعَلْنَكَ خَلِيفَةً فِي الْأَرْضِ اور یہ بتانے کے لئے کہ میں تمہارے ساتھ ہوں۔۔۔۔بالکل شروع خلافت کے زمانہ کی بات ہے۔حضرت مصلح موعود کا جب وصال ہوا تو