حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 395
364 حاشیہ جات باب ششم ا۔جس روز آپ کا انتخاب بطور خلیفہ المسیح ہوا اللہ تعالیٰ نے دور دراز علاقوں میں اپنے بعض پیارے بندوں کو بذریعہ رویا اس کی خبر پہنچا دی چنانچہ حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب تحدیث نعمت میں لکھتے ہیں :۔" اکتوبر ۱۹۶۵ء میں مجھے بعض امور کی سرانجام دہی کے لئے امریکہ جانا ہوا وہاں سے فراغت پاکر میں سان فرانسکو سے نیوزی لینڈ کے سفر پر روانہ ہوا۔ہوائی جہاز دوسری صبح قبل از فجر جزائر فیحی کے بین الا قوامی مطار ناندی پہنچا۔میرا ارادہ چند دن جزائر فیجی میں ٹھہرنے کا تھا۔ہم سان فرانسکو سے جمعرات کے دن روانہ ہوئے تھے دوسرے دن ناندی پہنچنے پر معلوم ہوا کہ ہفتے کا دن ہے درمیان میں جمعہ کا دن غائب ہو گیا۔مطار پر شیخ عبدالواحد صاحب مبشر سلسلہ احمدیہ اور ناندی کے چند احباب تشریف لائے ہوئے تھے۔میں ان کے ہمراہ شہر چلا گیا اور آئندہ چھ دن یعنی ہفتہ ۵۔نومبر سے جمعہ ۱۱ نومبر تک ان کے تجویز کردہ پروگرام کے مطابق ان کی خدمت میں حاضر و مشغول رہا۔اس عرصہ میں مختلف مقامات پر حاضری کا موقعہ ہوا لیکن زیادہ وقت جزائر کے صدر مقام سووا (Suva) میں گزرا۔۔۔۔۔و نومبر کی شام کو پبلک جلسہ تھا۔اس سے پھر ربوہ سے بذریعہ تار خبر ملی کہ حضرت خلیفہ المسیح الثانی " کی بیماری تشویشناک صورت اختیار کر گئی ہے۔یہ معلوم ہوتے ہی میں ہوائی کمپنی کے دفتر گیا اور وہاں سے دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ مجھے ربوہ پہنچنے کے لئے تین دن درکار ہوں گے۔وہاں سے احمد یہ مشن ہاؤس گیا تاکہ شیخ عبد الواحد صاحب اور احباب کے ساتھ مشورہ کر کے اپنا پروگرام طے کروں۔وہاں پہنچنے پر معلوم ہوا کہ حضور کے وصال کی اطلاع آ چکی ہے اِنَّا لِلَّهِ وَ اِنَّا اَلِيْهِ رَاجِعُون کو شیخ صاحب تو مارے غم و اندوہ کے حواس باختہ ہو رہے تھے۔۔۔۔۔وہ رات میرے لئے سخت کرب کی رات تھی۔پچھلے پہر میں نے خواب میں دیکھا جس کی واضح تعبیر تھی کہ خلیفہ کا انتخاب ہو گیا ہے۔منتخب ہونے والے خلیفہ کی عمر ۵۶ سال ہے اور ان کی طبیعت میں بہت رشد حیا اور علم ہے۔صبح ہونے پر میں نے موجودہ احباب سے یہ ذکر کر کے اپنا اندازہ بیان کیا کہ صاحبزادہ حافظ مرزا ناصر احمد صاحب خلیفہ منتخب ہوئے ہیں۔حضور کی عمر کے متعلق صرف میرا اندازہ تھا کہ ۵۶ سال ہے۔بعد