حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 393
362 تمام دنیا میں لہرانے لگے۔آج دنیا آپ کو بھی کمزور سمجھتی ہے اور مجھے بھی بہت ہی کمزور سمجھتی ہے لیکن ایک دن آئے گا کہ لوگ حیران ہوں گے اور وہ دیکھ لیں گے کہ خدا تعالیٰ کے قائم کردہ سلسلہ میں کتنی بڑی طاقت تھی کہ بظاہر کمزور نظر آنے والا مال سے محروم ، وسائل سے محروم ، دنیا کی عزتوں سے محروم ہر طرف سے دھتکارا جانے والا ذلیل کیا جانے والا ، اور وہ سلسلہ جس کو دنیا نے اپنے پاؤں کے نیچے مسلنا چاہا، خدا تعالیٰ کے فضل نے اسے آسمان کی بلندیوں تک پہنچا دیا ہے اور قرآن کریم جو کسی وقت صرف طاق کو سجاوٹ دے رہا تھا اس نے دلوں میں گھر کر لیا ہے اور پھر انسان کے دل سے علم کا بھی، نیکی اور تقویٰ کا بھی، اور دنیا کی ہمدردی اور غم خواری کا بھی ایک چشمہ بہہ نکلا ہے۔اسی طرح جس طرح ایک موقع پر آنحضرت میم کی انگلیوں سے بوقت ضرورت پانی کا چشمہ بہہ نکلا تھا۔دنیا انشاء اللہ یہ نظارے دیکھے گی، مگر ہم میں سے ہر ایک شخص کو چاہئے کہ وہ اپنی بساط کے مطابق اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرتا رہے۔" ایک تاریخی عہد اور حضرت مصلح موعود کی نماز جنازہ جب حضرت خلیفہ المسیح الثالث رحمہ اللہ ہزاروں سوگوار احباب جماعت کے جلوس کے ساتھ حضرت مصلح موعود کا تابوت لے کر بہشتی مقبرہ پہنچے تو نماز جنازہ پڑھانے سے قبل حضور قبلہ رخ ہو کر کھڑے ہوئے اور لاؤڈ سپیکر پر خطاب کرتے ہوئے فرمایا :۔” میں چاہتا ہوں کہ نماز جنازہ ادا کرنے سے قبل ہم سب مل کر اپنے رب رؤف کو گواہ بنا کر اس مقدس منہ کی خاطر جو چند گھڑیوں میں ہماری آنکھوں سے اوجھل ہونے والا ہے اپنے اس عہد کی تجدید کریں اور وہ عہد یہ ہے کہ ہم دین اور دین کے مصالح کو دنیا اور اس کے