حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 390
359 اسی وقت آپ کی بیعت کی، جس کے بعد آپ نے خطاب فرمایا اور پھر تمام موجود احباب نے جن کی تعداد اندازاً پانچ ہزار تھی رات کے ساڑھے دس بجے آپ کی بیعت کی۔دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس انتخاب کو منظور فرما کر نہایت بابرکت فرمائے۔اس طرح ہم ایک دفعہ پھر نازک دور میں سے گزر کر الوصیت کی پیشگوئی کے مطابق ایک ہاتھ پر جمع ہو گئے ہیں وَللَّهِ الْحَمْدِ (سیکرٹری مجلس مشاورت) ۲ اس اعلان کے ذریعہ تمام جماعت احمدیہ عالمگیر کو یہ خوش خبری سنائی گئی کہ خدا کے فضل سے جماعت پھر ایک ابتلاء کے بعد ایک ہاتھ پر اکٹھی ہو گئی ہے۔اور خدا نے خوف کی حالت کو امن کی حالت میں بدل دیا ہے۔جناب الہی سے مومنوں کی جماعت کو پھر ایک امام عطا ہوا منافقوں کے سارے منصوبے دھرے کے دھرے رہ گئے۔اور دشمنوں کی خواہشیں حسرت و یاس میں بدل گئیں۔حضرت خلیفہ ثالث کا ایک تاریخی خطاب اگلے روز فجر کی نماز کے بعد ۹ نومبر ۱۹۶۵ء کو حضرت خلیفۃ المسیح الثالث” نے احباب جماعت کے سامنے ایک معرکتہ الارا خطاب فرمایا جو کہ درج ذیل ہے۔فرمایا :- ” یہ وقت الہی جماعتوں کے لئے بڑا نازک وقت ہوتا ہے گویا ایک قسم کی قیامت بپا ہے۔ایسے وقت میں جہاں اپنے گھبرائے ہوتے ہیں وہاں اغیار برائی کی امیدیں لئے جماعت کو تک رہے ہوتے ہیں اور خواہش رکھتے ہیں کہ شائد یہ وقت اس الہی جماعت کے انتشار یا اس میں کسی قسم کی کمزوری پیدا ہونے یا اس کے اتحاد اس کے اتفاق اور اس کی باہمی محبت میں رخنہ پڑنے کا ہو لیکن جو سلسلہ خدا تعالیٰ کے ہاتھ سے قائم کیا جاتا ہے وہ ایسے نازک دوروں میں اپنی موت کا پیام نہیں