حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 388
357 فرمائی اور جو کام خدا تعالیٰ نے ان کے سپرد کیا انہوں نے پوری طرح نبھایا۔اب ہمارا فرض ہے کہ ہم اس کو ترقی دیں اور اس میں کمزوری نہ آنے دیں۔لہ اس کے بعد حضور نے مندرجہ ذیل الفاظ میں اراکین سے بیعت لی اَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحَدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ اَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحَدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ میں آج ناصر کے ہاتھ پر بیعت کر کے سلسلہ احمدیہ میں داخل ہوتا ہوں اور اپنے تمام پچھلے گناہوں سے توبہ کرتا ہوں اور آئندہ بھی ہر قسم کے گناہوں سے بچنے کی کوشش کرتا رہوں گا۔شرک نہیں کروں گا بدظنی نہیں کروں گا، غیبت نہیں کروں گا، کسی کو بھی دکھ نہیں پہنچاؤں گا دین کو دنیا پر مقدم رکھوں گا، اسلام کے سب حکموں پر عمل کرنے کی کوشش کرتا رہوں گا، قرآن کریم ، احادیث نبویہ اور کتب مسیح موعود علیہ السلام کے پڑھنے پڑھانے ، سننے سنانے میں کوشاں رہوں گا جو نیک کام مجھے آپ بتائیں گے ان میں ہر طرح کا آپ کا فرمانبردار رہوں گا۔آنحضرت ملال کو خاتم النبین یقین کروں گا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے سب دعاوی پر ایمان رکھوں گا۔أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ رَبِّي مِنْ كُلِّ ذَنْبٍ وَاَتُوْبُ اِلَيْهِ - اَسْتَغْفِرُ اللَّهَ رَبِّي مِنْ كُلِّ ذَنْبٍ وَآتُوبُ إِلَيْهِ - اَسْتَغْفِرُ اللَّهَ رَبِّي مِنْ كُلِّ ذَنْبٍ وَآتُوبُ إِلَيْهِ - رَبِّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِى وَ اعْتَرَفْتُ بِذَنْبِي فَاغْفِرْ لِي ذُنُوبِي فَإِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا انْتَ اے میرے رب میں نے اپنی جان پر ظلم کیا اور میں اپنے گناہوں کا اقرار کرتا ہوں تو میرے گناہ بخش کہ تیرے سوا کوئی بخشنے