حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 363
348 علم خاکسار کو ہوا جب ایک نہایت غلیظ گالیوں سے بھرا ہوا خط کسی نے مجھے لکھا جسے میں برداشت نہ کر سکا اور وہ خط حضور کی خدمت میں پیش کر کے اجازت چاہی کہ مجھے ہوسٹل، باسکٹ بال اور دیگر فرائض سے فارغ فرمایا جائے۔حضور مجھے رہائش گاہ پر لے گئے، ڈرائنگ روم کے ساتھ والی سٹڈی میں بٹھایا، اندر تشریف لے گئے اور ایک بستہ لا کر میرے سامنے رکھ دیا اور فرمایا کہ اسے پڑھو۔میں نے پہلا خط ہی تھوڑا سا پڑھا تھا کہ تاب نہ لا سکا، خدا جانتا ہے کہ میرا دماغ چکرا گیا اور سوچا کہ یہ حسین و جمیل مسکراتا ہوا شگفتہ خوشبودار پھول اندر سے سے کتنا مظلوم ہے۔حضور کے وقار اور صبر کی عظمت کی ہیبت دل پر طاری ہوئی۔معافی مانگی تو فرمایا کہ اپنی ڈیوٹی پر دلیری سے جسے رہنا ہی اصل بہادری ہے۔حالات کچھ ہی کیوں نہ ہوں۔کتنا ہی کیچڑ اچھلے اپنے فرض منصبی پر دلیری سے قائم رہیں۔پھر تو یہ معمول ہو گیا کہ ڈاک کھولتے تو کوئی نہ کوئی ایسا ہی خط تھما دیتے یہاں تک کہ عاجز فریاد کر اٹھا۔" ایک طرف حاسدوں کی طرف سے آپ کے خلاف پروپیگنڈا کیا جاتا تھا اور دوسری طرف آپ کے اندر اتنی شرم و حیا اور شہرت سے نفرت پائی جاتی تھی اور انکساری کا یہ عالم تھا کہ آپ نے کبھی پسند نہ کیا کہ خطوط ، پمفلٹ یا کسی اور ذریعہ سے ان لوگوں کو بے نقاب کر کے اپنی مظلومیت کو ظاہر کریں۔آپ تو کل کے اعلیٰ مقام پر فائز تھے اور آپ نے قرآن کریم کی آیت وَ أُفَوِّضُ أَمْرِى إِلَى اللَّهِ (المومن (۴۵) کے تحت اپنا معاملہ صرف اللہ تعالٰی کے سپرد کیا ہوا تھا تاکہ ہر ایک اعتراض جو آپ پر کیا جا رہا تھا اس کا وہ خود جواب دے کیونکہ آپ کا اپنے پیدا کرنے والے رب سے ایک مضبوط تعلق تھا جس سے دنیا نا آشنا تھی۔آپ ۱۹۴۲ء سے الہام الہی سے سرفراز ہو چکے تھے اور یہ سلسلہ جاری و ساری تھا لیکن آپ نے اس کی معمولی سی تشہیر کو بھی پسند نہ کیا اور اگر کبھی کسی قریبی دوست کو اس سے آگاہ بھی کیا تو اس سے قسم لے لی کہ اس کا کسی سے ذکر نہیں کرنا۔Jee