حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 362
347 حضرت مصلح موعود کی بیماری اور حضرت میاں ناصر احمد صاحب کی ذمہ داریوں میں غیر معمولی اضافہ ۵۵۔۱۹۵۴ء میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ بیمار ہو گئے۔حضور کی بیماری کی وجہ سے حضرت میاں ناصر احمد صاحب کی ذمہ داریاں اور بھی بڑھ گئیں اس دوران بعض منافقوں نے سر اٹھایا اور ۱۹۵۶ء میں ایک بہت بڑا فتنہ کھڑا کر دیا۔ان کا ایک ہدف حضرت میاں صاحب کی ذات ستودہ صفات بھی تھی جو اپنی غیر معمولی صلاحیتوں اور عظیم الشان خدمات سلسلہ کے باعث جماعت میں ایک نمایاں اور قد آور مقام حاصل کر چکی تھی۔منافقین کو یہ خوف اندر ہی اندر کھائے جا رہا تھا کہ کہیں حضرت مصلح موعود کی وفات کے بعد صلحائے جماعت کی نظر انتخاب آپ پر نہ پڑ جائے۔وہ بزعم خود قبل از وقت ہی اس امکانی خطرے کو راستے سے ہٹانا چاہتے تھے اس لئے انہوں نے باقاعدہ منصوبہ بنا کر آپ کے خلاف جھوٹا پروپیگنڈہ شروع کر دیا۔ایک طرف خلیفہ وقت اور شفیق باپ کی بیماری کا غم، اوپر سے بڑھتی ہوئی جماعتی ذمہ داریاں ادھر منافقین کی ریشہ دوانیاں شروع ہوئیں۔آپ نے ان آزمائش کی گھڑیوں میں نہایت صبر و تحمل کا نمونہ پیش کیا۔چنانچہ پروفیسر چوہدری محمد علی صاحب لکھتے ہیں۔کالج اور یونیورسٹی کے پس منظر میں حضور کی مقبولیت اور محبوبیت کا اندازہ تو ہم سب کو تھا لیکن خدام الاحمدیہ کے اجتماعات کی شوری کے موقع پر اور کبھی کبھی دیگر مواقع پر یہ احساس بھی ہوتا تھا کہ ایک طبقہ ایسا ہے جن کو حضور سے خدا واسطے کا بیر ہے۔حضور کی مظلومیت کا کچھ