حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 18
18 گی پھر آپ نے آگے چل کر بڑے جلالی رنگ میں فرمایا نَافِلَةٌ لَكَ عَسَى أَنْ يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مُقَامًا مَحْمُودًا پھر فرمایا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک پوتا ہو گا جو اس خدائی سلسلہ کو مقام محمود تک پہنچائے گا۔اس کے بعد آپ کے چہرہ کا فوکس میرے سامنے لایا گیا کہ یہ ہوتا ہے میں نے فورا عرض کیا کہ یہ تو میاں ناصر احمد صاحب ہیں اور زبان سے الْحَمْدُ لِلَّهِ سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ سُبْحَانَ اللهِ الْعَظِیمِ نکلا اور آنکھ کھل گئی۔"۔م الله ضلع سیرت خلیفہ المسیح الثالث کی تصنیف کے سلسلہ میں بعض اور دوستوں نے روایات لکھ کر دیں۔اس سلسلہ میں چوہدری محمد انور حسین امیر جماعت احمدیہ شیخو پورہ بیان کرتے ہیں۔ایک بڑے ہی بزرگ دوست نے ایک دفعہ کہا کہ میں نے آسمان پر ”میاں ناصر احمد صاحب" لکھا دیکھا ہے۔بعد میں آپ خلیفہ منتخب ہو گئے۔" خود حضرت خلیفہ المسیح الثالث نے اپنی خلافت کے پہلے جلسہ سالانہ پر ۲۱ دسمبر ۱۹۶۵ء کو پیشگوئی مصلح موعود کے حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کے وجود میں پورے ہونے کا ذکر کرتے ہوئے اپنا ذکر ان الفاظ میں فرمایا :۔" پھر خدا نے فرمایا تھا کہ وہ تین کو چار کرنے والا ہوگا۔ایک ہی پیشگوئی بعض دفعہ کئی واقعات پر مشتمل ہوتی ہے۔کئی لحاظ سے یہ پیشگوئی پوری ہو چکی ہے لیکن اس کے ایک معنے یہ بھی تھے کہ جن چار لڑکوں کی اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بشارت دی تھی ان میں سے چوتھا لڑکا حضرت مصلح موعود الله کے صلب سے پیدا ہو گا اور وہ بمنزلہ مبارک احمد کے ہو گا جیسا کہ خود حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام نے بھی تحریر فرمایا ہے۔سو اس لحاظ سے بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ پیشگوئی پوری ہو گئی ہے۔"