حیات ناصر ۔ جلد اوّل

by Other Authors

Page 339 of 749

حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 339

324 کارکنان سلسلہ کے لئے دردمندی مکرم مسعود احمد صاحب دہلوی لکھتے ہیں۔وو ۱۹۲۰ء کے موسم گرما کی بات ہے۔میں ایک روز کالج والی کو ٹھی میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا۔اس روز گرمی بہت شدید تھی۔گرمی اور لو کی شدت کی وجہ سے دوپہر تڑپتے گزری تھی۔اجازت ملنے پر جو نہی میں حضور کے کمرہ میں داخل ہوا۔آپ نے پہلی بات ہی یہ کی کہ آج گرمی بہت زیادہ ہے ہر چند کہ میں ساری دو پر بجلی کے پنکھے کے نیچے لیٹا رہا ہوں پھر بھی میں ایک منٹ کے لئے نہیں سو سکا۔اپنی بے کلی اور بے آرامی دیکھ کر مجھے خیال آیا کہ بجلی کے پنکھے موجود ہونے کے باوجود میری یہ حالت ہے تو نہ معلوم اس گرمی میں ہمارے کارکنوں کی دو پر کیسے گزرتی ہو گی کیونکہ ان کے کوارٹروں میں تو بجلی کے پنکھے نہیں ہیں۔اس خیال کے آتے ہی میں اپنی تکلیف بھول گیا اور کارکنوں کی تکلیف کے احساس نے مجھے ساری دوپہر بے چین رکھا۔جب آپ کے آنے کی اطلاع ہوئی تو اس وقت بھی یہی احساس مجھ پر غالب تھا۔اس پر میں نے عرض کیا کہ بجلی کا پنکھا تو بہت دور کی بات ہے اس کا تو کارکنوں کو کیا خیال آئے گا۔گرمی کی شدت کا احساس دور کرنے کے لئے پہلی ضرورت تو پانی کی فراہمی ہے۔کارکنان کے کواٹروں میں ہینڈ پمپ ( نلکے) ہی ندارد ہیں۔اس گرمی میں انہیں باہر لگے ہوئے نلکوں سے پانی بھر بھر کر لانا پڑتا ہے۔اس پر حضور نے بہت افسوس کا اظہار کیا اور فرمایا۔آپ کوئی ایسی ترکیب بتائیں کہ انجمن بھی زیر بار نہ ہو اور کوارٹروں میں نلکے بھی لگ جائیں اور وہ ہوں بھی کارکنوں کی ملکیت۔میں نے عرض کیا کہ جس طرح صدر انجمن سال بھر کی گندم